سٹی 42: وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت دہشتگردی کے خلاف مؤثر کارروائیوں کے نتیجے میں ملک میں امن بحال ہوا اور سرمایہ کاری کے لیے ماحول بہتر ہوا، تاہم دہشتگردوں کی واپسی اور پالیسی میں تبدیلی نے انسداد دہشتگردی کی کوششوں کو نقصان پہنچایا۔
اسلام آباد میں ایک ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے عطا تارڑ نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستانی قوم، افواج، پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے 90 ہزار جانوں کی قربانیاں دیں۔ نیشنل ایکشن پلان دہشتگردی کے خلاف ریاست کا متفقہ فیصلہ تھا جس پر وفاقی و صوبائی حکومتوں اور تمام اداروں نے مل کر عمل کیا۔
وفاقی وزیر کے مطابق سوات سے بلوچستان اور جنوبی پنجاب تک دہشتگردی کے خطرات کا مقابلہ کیا گیا اور اڑھائی سے تین سال کے دوران نمایاں کامیابیاں حاصل ہوئیں، جس کے نتیجے میں کراچی سے خیبر تک امن قائم ہوا اور ملک میں سرمایہ کاری کا ماحول بہتر ہوا۔
عطا تارڑ نے کہا کہ دہشتگردوں اور ان کے سہولت کاروں کو دوبارہ آباد کرنے اور ان سے مذاکرات کی پالیسی نے انسداد دہشتگردی کی کوششوں کو نقصان پہنچایا، جبکہ دہشتگردوں کی واپسی دراصل کئی سال کی انسداد دہشتگردی کی کوششوں کا ریورس تھا۔
انہوں نے کہا کہ دہشتگرد اب سخت اہداف کے بجائے نرم اہداف کو نشانہ بنا رہے ہیں، امام بارگاہوں، بچوں کی بسوں اور ٹرینوں پر حملے اس کی مثال ہیں۔ جعفر ایکسپریس پر حملے جیسی مثالیں دنیا میں کم ہی ملتی ہیں اور سیکیورٹی اداروں نے ایسے آپریشنز کو انتہائی مہارت سے مکمل کیا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں مستقل کامیابی کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لینا اور سیاسی اتفاق رائے پیدا کرنا ضروری ہے۔ دہشتگردی میں اضافے کی وجوہات میں پالیسی کا ریورسل اور بیرونی مداخلت بھی شامل ہیں، جبکہ دہشتگردی کی بیرونی معاونت کے شواہد موجود ہیں۔
عطا تارڑ نے پہلگام واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ واقعے کے فوری بعد پاکستان پر الزامات عائد کیے گئے، تاہم پاکستان نے ہر الزام کا مدلل جواب دیا۔ وزیراعظم کی جانب سے شفاف بین الاقوامی تحقیقات کی پیشکش نے بھارتی بیانیے کو بے نقاب کیا۔
انہوں نے کہا کہ جس قوم نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں 90 ہزار جانیں قربان کی ہوں، وہ دہشتگردی کی حمایت کیسے کرسکتی ہے۔ ان کے مطابق کلبھوشن یادیو کی بلوچستان سے گرفتاری پاکستان میں بھارتی مداخلت کا عملی ثبوت ہے۔
وفاقی وزیر نے ڈیجیٹل محاذ کو بھی قومی سلامتی کا اہم حصہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بیرونی عناصر تخریب کاری کے ساتھ ساتھ منفی بیانیہ اور ذہن سازی بھی کر رہے ہیں۔ ڈیجیٹل ڈومین میں دہشتگردی، سائبر کرائم، خواتین کو ہراساں کرنے اور بچوں کے استحصال جیسے مسائل سے نمٹنے کے لیے مؤثر قانونی فریم ورک ضروری ہے۔
عطا تارڑ نے کہا کہ وفاق اور صوبے مل کر ڈیجیٹل ڈومین میں ریاستی بیانیے کو مضبوط بنا رہے ہیں۔ حکومت نے ڈیجیٹل کمیونیکیشن کے لیے نیا شعبہ قائم کیا ہے جہاں جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے ذریعے میڈیا مواد کا تجزیہ کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے مثبت تشخص اور سافٹ امیج کو عالمی سطح پر اجاگر کرنا حکومت کی ترجیح ہے، جبکہ سفارتی کامیابیوں کو بھی مؤثر انداز میں دنیا کے سامنے پیش کرنے کی ضرورت ہے۔
عطا تارڑ کے مطابق انسدادِ پرتشدد انتہاپسندی کے لیے پی آئی ڈی میں خصوصی سیل قائم کیا گیا ہے اور دہشتگردی کے خاتمے کے لیے ریاستی اداروں کی مشترکہ کوششیں جاری ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشتگردی کا کوئی رنگ، نسل یا مذہب نہیں ہوتا اور پاکستان کی بقا، سلامتی اور استحکام کے لیے پوری قوم متحد ہے۔