سٹی42: کینبرا میں آسٹریلیا کی حکومت کی جانب سے ایک اسرائیلی قانون ساز کو ملک میں داخلے سے روکے جانے کے چند گھنٹے بعد اسرائیل کے وزیر خارجہ گیدون ساعار نے پیر کو "فلسطینی اتھارٹی کے لیے آسٹریلیا کے نمائندوں" کے رہائشی ویزے کو منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا۔
آسٹریلیا نے پیر کی صبح اعلان کیا تھا کہ وہ انتہائی دائیں بازو کے "مذہبی صیہونییت" تنظیم کے کنیست کے رکن سمچا روتھمین کے آسٹریلیا آنے پر پابندی عائد کر رہا ہے۔ آسٹریلیا نے سمچا رو تھمین سے آسٹریلیا پہنچنے سے چند گھنٹے پہلے اس پابندی کا اعلان کیا تھا جب روتھ مین وہاں تقریبات کی ایک سیریز کے لیے جانے والے تھے۔
چینل 12 نیوز کے مطابق، کینبرا سے فلسطین میں آسٹریلیا کی نمائندگی کرنے والے دونوں آسٹریلوی سفارت کار رام اللہ میں دفاتر رکھنے کے باوجود اسرائیل میں رہتے ہیں۔
ساعار نے آسٹریلوی حکومت پر اینٹی سیمیٹک(" یہودیوں سے دشمنی") کے رویہ کو ہوا دینے کا الزام لگایا اور X پر لکھا کہ اس نے کینبرا میں اسرائیل کے سفارت خانے کو بھی ہدایت کی تھی کہ "اسرائیل میں داخلے کے لیے کسی بھی سرکاری آسٹریلوی ویزا کی درخواست کا بغور جائزہ لیا جائے۔"
یہ واضح نہیں تھا کہ آیا یہ پالیسی تمام آسٹریلوی درخواستوں کو متاثر کرے گی یا صرف آسٹریلوی حکومت کے اہلکاروں کی درخواستوں پر ہی توجہ دی جائے گی۔
یہ فیصلہ، جو پیر کی سہ پہر آسٹریلوی سفیر کے سامنے پیش کیا گیا، ستمبر میں "فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے آسٹریلن پرائم منسٹر انتھونی البانی کے فیصلے" اورآسٹریلیا کی جانب سے "متعدد اسرائیلی شخصیات کو ویزے دینے سے بلاجواز انکار" کے بعد کیا گیا، جس میں سابق وزیر انصاف آیلیٹ شیکڈ اور روتھ مین شامل ہیں، جو کمیٹی سیٹورن کے سربراہ ہیں۔
"جب کہ آسٹریلیا میں یہودیوں اور یہودی اداروں کے خلاف تشدد کے مظاہروں سمیت "سام دشمنی" عروج پر ہے، آسٹریلوی حکومت جھوٹے الزامات لگا کر اسے ہوا دینے کا انتخاب کر رہی ہے، گویا اسرائیلی شخصیات کے دورے سے امن عامہ میں خلل پڑے گا اور آسٹریلیا کی مسلم آبادی کو نقصان پہنچے گا۔ یہ شرمناک اور ناقابل قبول ہے!" ساعار نے کہا۔
آسٹریلیا جانے سے روک دیئے گئے رکن پارلیمنٹ روتھمین نے کان پبلک براڈکاسٹر کے ساتھ ایک انٹرویو میں دعویٰ کیا کہ آسٹریلوی حکومت کو "اسلام پسند جہادیوں نے ان کا ویزا منسوخ کرنے کے لیے ڈرایا تھا، اور آسٹریلیا کی حکومت نے دہشت گردی کے سامنے ہتھیار ڈال دیے تھے۔"
اس اعلان کے فوراً بعد ساعار کے دفتر کی طرف سے جاری کیے گئے ایک عبرانی زبان میں سخت الفاظ سے بھرے ویڈیو پیغام میں، ساعار نے اعلان کیا کہ "آسٹریلیا اسرائیل کے خلاف کام کر رہا ہے، آسٹریلیا اسرائیل پر ظلم کر رہا ہے،" اور کہا کہ اسرائیلی افراد پر پابندی لگانے کے اس کے اقدام کو "اس تناظر میں سمجھنا چاہیے۔"
ساعر نے خبردار کیا کہ اسرائیل اس فیصلے کے جواب میں "اضافی اقدامات" کرے گا۔
آسٹریلوی یہودیوں کی ایسوسی ایشن نے انتہائی دائیں بازو کے قانون ساز، روتھ مین کو یہودی سکولوں اور عبادت گاہوں میں سلسلہ وار وزٹ کرنے اور سام دشمن حملوں کی حالیہ لہر کے متاثرین سے ملنے کے لیے تیار کیا گیا تھا، اور انہیں مدعو کیا تھا۔ آج آصڑیلین جیوئش ایسوسی ایشن نے تصدیق کی کہ روتھمین کا ویزا منسوخ کر دیا گیا ہے۔
آسٹریلیا کے وزیر داخلہ ٹونی برک نے روتھمین کا ویزا منسوخ کرنے کے فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’اگر آپ نفرت اور تقسیم کا پیغام پھیلانے کے لیے آسٹریلیا آرہے ہیں تو ہم آپ کو یہاں دیکھنا نہیں چاہتے‘‘۔ "آسٹریلیا ایک ایسا ملک ہوگا جہاں ہر کوئی محفوظ رہ سکتا ہے، اور خود کو محفوظ محسوس کر سکتا ہے۔"
ویزا کی منسوخی کی خودکار شرط کے طور پر، روتھمین اب سے تین سال تک آسٹریلیا کا سفر کرنے سے قاصر ہوں گے۔ روتھ مین پر پابندی لگاتے ہوئے یہ واضح نہیں کیا گیا کہ ان کے کہ کون سے مخصوص اقدامات یا تبصروں نے کینبرا کو اس اقدام پر مجبور کیا تھا۔
آسٹریلیا کی حکومت نے حالیہ ہفتوں میں اسرائیل کے خلاف بڑھتے ہوئے تنقیدی موقف کو اختیار کیا ہے، جس میں کئی دیگر مغربی ممالک کے ساتھ اگلے ماہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے منصوبے کا اعلان بھی شامل ہے۔
وزیر اعظم انتھونی البانی نے کہا ہے کہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے لیے کچھ شرائط کی پیروی کی جائے گی، جیسے کہ فلسطینی اتھارٹی میں اصلاحات کی جائیں، ڈی ملٹرائزیشن کی جائے، اور اس بات کی ضمانت بھی دی جائے کہ حماس کا فلسطین کی حکومت میں "کوئی حصہ نہیں" ہوگا۔