سٹی42: ایک عرب سفارت کار نے انکشاف کیا ہے کہ دوحہ مذاکرات میں حماس اپنے بیشتر مطالبوں سے پیچھے ہٹ گئی ہے۔ حماس کے مذاکرات کار نے خود قطر کے وزیراعظم کو ایک نئی تجویز پیش کی ہے کسے اب اسرائیل تک پہنچایا جا رہا ہے۔
اس سے پہلے حماس کے عرب ثالثوں کی نئی تجویز سے متفق ہونے کے متعلق خبر آئی تھی۔ اس کے کچھ دیر بعد یہ خبر آئی ہے کہ حماس ان مطالبات سے پیچھے ہٹ گئی ہے جن کی وجہ سے گزشتہ مہینے دوحہ میں مذاکرات ٹھپ ہو گئے تھے۔ اور یہ کہ نئی تجویز حماس کے مذاکرات خلیل الحیا کی طرف سے آئی ہے۔
ایک عرب سفارت کار نے اسرائیل کی نیوز آؤٹ لیٹ ٹائمز آف اسرائیل کو بتایا کہ حماس کے چیف مذاکرات کار خلیل الحیا نے قطری وزیر اعظم محمد بن عبدالرحمن الثانی کو ایک تازہ ترین جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کی تجویز پیش کی جو دہشت گرد گروپ کی طرف سے اٹھائے گئے مطالبات کی اکثریت سے پیچھے ہٹ گئی جس کی وجہ سے گزشتہ ماہ کی بات چیت ختم ہو گئی۔
سفارت کار کا کہنا ہے کہ اس تجویز میں 60 دن کی جنگ بندی کے دوران 150 فلسطینی سیکیورٹی قیدیوں کے بدلے 10 زندہ یرغمالیوں کی رہائی کی جائے گی، انہوں نے مزید کہا کہ اس معاہدے میں مقتول یرغمالیوں کی لاشوں کی رہائی بھی شامل ہو گی۔
اب تک یروشلم میں نیتن یاہو حکومت نے اصرار کیا ہے کہاب وہ صرف اس صورت میں جنگ کے خاتمے پر راضی ہو گی جب حماس تمام یرغمالیوں کو ایک ساتھ رہا کر دے۔ حماس خود غیر مسلح ہو جائے اور غزہ کو ڈی ملٹرائزڈ زون بنا دیا جائے۔ اسرائیل کو پٹی کی مجموعی سکیورٹی کا کنٹرول حاصل ہو اور غزہ کا انتظام ایسی انتظامیہ کو دیا جائے جو فلسطینی اتھارٹی نہ ہو۔
اب تک عرب ثالثوں کا خیال ہرہا ہے کہ اسرائیلی مطالبات انہیں کام کرنے کے لیے کچھ نہیں دیت۔ اسرائیلی مطالبات کی بجائے عرب سفارتکار پہلے ایک جزوی معاہدے کو حاصل کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں جس کے ذریعہ کچھ یرغمالیوں کی رہائی ممکن ہو سکے۔ وہ اپنے مجوزہ معاہدہ کو ایک "جامع معاہدے کے راستے" کے طور پر تیار کر رہے ہیں۔
اس سال کے شروع میں امریکی خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف کی تیار کردہ تجویز کی طرح، تازہ ترین تجویز میں 60 روزہ جنگ بندی کے آغاز پر مستقل جنگ بندی کی شرائط پر بات چیت کا تصور پیش کیا گیا ہے، ثالثوں کا مقصد حالیہ عرب سفارت کاریکی کوشش شروع کرنے کے دو ماہ ک ہونے تک ان تفصیلات پر کوئی معاہدہ یقینی بنانا ہے۔
اس سے پہلے آج امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی وزیراعظم کے سخت موقف کے ساتھ موافقت کرتے ہوئے نظر آئے، ٹروتھ سوشل پر ٹرمپ نے لکھا کہ یرغمالیوں کی رہائی صرف اس وقت ہو پائے گی جب حماس تباہ ہو جائے گی۔
عرب سفارت کار کا قیاس ہے کہ ٹروتھ سوشل پوسٹ ایک "دباؤ کا حربہ" تھا جس کا مقصد حماس کو وٹ کوف کی اصل یرغمالی معاہدے کی تجویز کی شرائط کو قبول کرنے پر لانا تھا۔
آج پیر کی شام اسرائیلی نیوز آؤٹ لیٹ ٹائمز آف اسرائیل کو معاملہ سے آگاہ کرنے والے سفارت کار کا کہنا ہے کہ حماس کی طرف سے پیش کی گئی تجویز تقریباً مکمل طور پر وٹ کوف کی تجویز سے ملتی جلتی ہے۔