پنجاب اسمبلی میں پولیس پر تشدد ,بڑی گرفتاریاں شروع

پنجاب اسمبلی
کیپشن: Punjab Assembly
سورس: Google
Stay tunned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

علی ساہی: پنجاب اسمبلی میں نئے قائد ایوان کے انتخابات کے موقع پر پولیس افسران و اہلکاروں پر تشدد کرنے کا معاملہ،پنجاب پولیس نےتشدد کرنے والے ممبران پر مقدمہ درج کرنے اور گرفتارکرنے کا فیصلہ کر لیا۔

ذرائع کے مطابق پنجاب پولیس کی جانب سے بڑی گرفتاریاں شروع کردی گئی ہیں۔ اسی اثنا میں گلبرگ سے پی ٹی آئی خاتون رکن اسمبلی کو گرفتار کرلیا گیا۔ اگلے 24 گھنٹوں میں مزید ارکان اسمبلی کی گرفتاریاں متوقع ہیں۔ 

واضح رہے کہ پولیس نے پنجاب اسمبلی سے سی سی ٹی وی فوٹیجز کا ریکارڈ کل  ہی حاصل کر لیا تھا۔سی سی ٹی وی فوٹیجز کی مدد سے تشدد کرنے والے ممبران کی شناخت کر لی گئی۔ 

تشدد کرنے والے ممبران میں خواتین ایم پی ایز بھی شامل ہیں، میڈیا اور سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز کا بھی جائزہ لیا گیا۔

ذرائع کے مطابق سوشل میڈیا پر وائرل فوٹیجز میں فیاض الحسن چوہان، عمر تنویر، رانا شہباز، خیال کاسترو، خافظ عمار یاسر اور مہندر سنگھ پال  کو تشدد کرتے واضح دیکھا جاسکتا ہے۔ 

ذرائع کے مطابق فوٹیجز میں واثق قیوم عباسی، نوابزادہ وسیم، تیمور سعود مومنہ وحید، زینب عمر، شاہدہ احمد اور  آسیہ امجد کو بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

واضح رہے کہ ڈپٹی اسپیکر پر تشدد کرنے والے ممبران کے خلاف پہلے ہی مقدمہ درج کیا جا چکا ہے۔ڈپٹی اسپیکر نے اپنے اوپر حملہ ہونے کے بعد آئی جی اور چیف سیکرٹری پنجاب کو فلور پر فورس تعینات کرنے کا خط لکھا تھا۔