سٹی42: ٹک ٹاک پر اپنا بنایا ہوا مواد پوسٹ کر کے پیسے کمانے کے خواہشمند پاکستانیوں اور پہلے ہی ٹک ٹاک سے پیسہ کما رہے پاکستانیوں کے لئے خوشخبری آ گئی۔
امریکی صدر ن ڈونلڈ ٹرمپ نے ’ٹک ٹاک‘ سے متعلق خوش خبری کا دیا اشارہ دیا ہے جس کے متعلق میڈیا رپورٹس یہ ہیں کہ اب صدر ٹرمپ 17 ستمبر کو ٹک ٹاک کو امیرجہ میں کام بند کرنے سے نہین روکیں گے۔
’صدر ٹرمپ بے بتایا کہ وہ جمعہ کو چینی صدر شی سے بات کریں گے۔ صدر ٹرمپ نے کہا، ہمارے رشتے اب بھی بہت مضبوط ہیں۔
2024 میں امریکہ کی پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں نے ایک متنازعہ قانون بنایا تھا جس کے ذریعہ چینی شہری کی ملکیت انٹڑنیشنل سوشل میڈیا انٹرٹینمنٹ کمپنی ڈانس بائیٹ کو مجبور کیا گیا تھا کہ وہ یا تو اپنا امریکہ کا سارا بزنس کسی امریکی کو بیچ دے، یا پھر امریکہ میں اپنا کام بند کر دے۔ اس قانون مین یہ قرار دیا گیا تھا کہ اگر بائٹ ڈانس اپنی امریکی مارکیٹ کے تمام معاملات کو کسی امریکی کو فروضت نہیں کرے گی تو امریکہ میں ٹک ٹاک پر مکمل طور سے پابندی عائد کر دی جائے گی۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جس روز اختیار سنبھالا اس وقت صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ٹک ٹاک کو بیچنے کے لئے انریکی پارلیممنٹ کی مہلت ختم ہو گئی تھی اور اس سوشل میڈیا کمپنی کا امریکہ میں کارروبار بند کرنے کا آغاز ہو گیا تھا، اس وقت ٹرمپ نے ٹک ٹاک کو اپنی ملکیت کسی امریکی کو بیچ دینے کے لئے تین ماہ کی مدت دی تھی۔
یہ مدت ختم وہئی تو ٹرمپ نے اس میں 17 ستمبر تک توسیع کر دی۔
آج صدر ٹرمپ نے یہ خوشخبری سنائی کی وہ ٹک ٹاک اور دیگر اہم امور پر چین کے صدر ژی سے براہ راست بات چئت جرئبگے جو جمعہ کے روز ہو گی۔
میڈیا رپورٹس مین کہا جا رہا ہے کہا ٹرمپ نے 15 ستمبر کو چین کے ساتھ ایک معاہدہ طے پانے کا اشارہ دیا ہے۔ ممکنہ طور پر اس معاہدہ کے تحت ’ٹک ٹاک‘ امریکی بازار میں کام کرنا جاری رکھ سکتا ہے۔ یہ معاہدہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے چینی ایپ کے لیے امریکی ملکیت کی شرائط کی تعمیل سے متعلق مقرر کردہ 17 ستمبر سے عین قبل ہوا ہے۔ اس تعلق سے اطلاع دیتے ہوئے ڈونالڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’یورپ میں امریکہ اور چین کے درمیان بڑی کاروباری میٹنگ کافی کامیاب رہی، یہ جلد ہی ختم ہونے والی ہے۔ ایک خصوصی کمپنی کے حوالے سے بھی معاہدہ ہوا ہے، جسے ہمارے ملک کے نوجوان بہت بچانا چاہتے تھے، وہ بہت خوش ہوں گے۔ میں جمعہ کو صدر شی جنپنگ سے بات کروں گا۔ ہمارے رشتے اب بھی کافی مضبوط ہیں۔‘‘
واضح رہے کہ چین کی ’بائٹ ڈانس‘ کمپنی کے ٹک ٹاک ایپ پر امریکہ نے 19 جنوری 2025 کو قانونی طور پر پابندی عائد کر دی تھی۔ حالانکہ یہ ایپ اب بھی امریکہ میں کام کر رہا ہے۔ امریکی حکومت اور بائٹ ڈانس کے درمیان اس ایپ کی امریکی حصہ داری فروخت کرنے کی بات چیت چل رہی ہے۔ 2024 میں امریکی پارلیمنٹ نے نیا قانون بنایا تھا کہ اگر بائٹ ڈانس اپنی امریکی حصہ داری فروخت نہیں کرتی ہے تو ٹک ٹاک پر مکمل طور سے پابندی عائد کر دی جائے گی۔
بہرحال، میڈرڈ میں امریکی اور چینی افسران کے درمیان دور جدید سے متعلق اقتصادی و کاروباری مذاکرہ ہوا۔ امریکی وفد کی قیادت امریکی سکریٹری برائے خزانہ اسکاٹ بیسنٹ اور تجارتی نمائندہ جیمسن گریر کر رہے ہیں، جبکہ چینی وفد کی قیادت نائب وزیر اعظم ہی لائفنگ کر رہے ہیں۔ یہ میٹنگ دو فریقی رشتوں اور تجارتی تنازعوں کو حل کرنے کے لیے اہم مانا جا رہا ہے۔
ماہرین کا خیال ہے کہ امریکہ اور چین کے درمیان تعلقات کافی پیچیدہ ہیں۔ تجارتی تنازعہ، قومی سلامتی خدشات اور ٹیکنالوجی کی صنعت پر بڑھتی کشیدگی نے رشتوں کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔ چین نے امریکہ کے ذریعہ جی7 اور ناٹو ممالک سے اپنے اوپر اور روس سے تیل خریدنے والے دیگر ممالک پر ٹیرف عائد کرنے کی اپیل کو دھونس جمانے اور معاشی دباؤ تصور کرتے ہوئے وارننگ دی ہے کہ اگر اس پر عمل کیا گیا تو وہ جوابی قدم اٹھائے گا۔