ملک اشرف : غیر معیاری دودھ کی تیاری اور فروخت کے ساتھ ساتھ فوڈ اتھارٹی کے اہلکاروں پر حملے کے الزام میں گرفتار ملزمان کی درخواست ضمانتوں پر لاہور ہائیکورٹ نے اہم فیصلہ سناتے ہوئے تینوں ملزمان کی ضمانتیں منظور کر لیں.
جسٹس شہرام سرور چوہدری کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے ملزمان وسیم عاشق، گلفام اور دیگر کی درخواست ضمانتوں پر سماعت کی ، ملزمان کی جانب سے راجہ عبد الرحمان ایڈووکیٹ نے دلائل دئیے جس پر دو رکنی بینچ نے درخواست ضمانتیں ایک ایک لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض منظور کرتے ہوئے ملزمان کی رہائی کا حکم دے دیا۔ عدالت نے ہدایت کی کہ ملزمان رہائی کے لیے اپنے مچلکے انسدادِ دہشت گردی عدالت میں جمع کروائیں۔سماعت کے دوران ملزمان کی جانب سے وکیل راجہ عبد الرحمان ایڈووکیٹ نے پیش ہوکر مؤقف اختیار کیا کہ اسسٹنٹ فوڈ سیفٹی آفیسر وقاص سرور کی مدعیت میں درج مقدمہ بے بنیاد ہے۔
وکیل کے مطابق ملزمان پر جعلی اور ملاوٹی دودھ تیار کرنے کا الزام لگایا گیا، جس کے لیے مبینہ طور پر لوشن، دو مکسنگ مشینیں اور تین ڈرم استعمال کیے جا رہے تھے۔وکیل نے عدالت کو مزید بتایا کہ ابتدائی تفتیش میں ملزمان کو بے گناہ قرار دیا گیا، تاہم بعد ازاں دوسری تفتیش میں انہیں قصوروار ٹھہرا دیا گیا، جو کہ شکوک و شبہات کو جنم دیتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلی تفتیش میں نہ تو ملزمان کی موقع پر موجودگی ثابت ہوتی ہے اور نہ ہی فوڈ اتھارٹی اہلکاروں پر حملے کا کوئی ثبوت سامنے آیا ہے۔ وکیل صفائی کے مطابق ملزمان کے خلاف الزامات بے بنیاد ہیں اور انہیں بلاجواز مقدمے میں ملوث کیا گیا ہے۔
دوسری جانب سرکاری وکیل نے ضمانتیں خارج کرنے کی استدعا کی، تاہم وہ عدالت کو مطمئن کرنے میں ناکام رہے۔دلائل سننے کے بعد عدالت نے ملزمان کی درخواست ضمانتیں منظور کرتے ہوئے انہیں مقررہ مچلکوں کے عوض رہا کرنے کا حکم دے دیا۔