ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

عالمی حمایت نہ ملنے پر امریکی صدر کی اتحادیوں پر سخت تنقید

عالمی حمایت نہ ملنے پر امریکی صدر کی اتحادیوں پر سخت تنقید
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

وب ڈیسک: امریکی صدر نے حالیہ گفتگو میں عالمی اتحادیوں پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب بھی امریکہ نے اپنے اتحادیوں، خصوصاً نیٹو، کی مدد کی ضرورت محسوس کی، تو اسے مطلوبہ تعاون حاصل نہیں ہوا۔ اوول آفس میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے شکوہ کیا کہ امریکہ نے نیٹو کے دفاع پر اربوں ڈالر خرچ کیے، مگر مشکل وقت میں اس اتحاد نے امریکہ کا ساتھ نہیں دیا۔

انہوں نے برطانیہ کے وزیرِاعظم کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ جنگ کے بعد فوجی مدد کی پیشکش بے معنی تھی۔ ان کے مطابق، جب فیصلہ کن مرحلہ گزر چکا ہو تو طیارہ بردار جہاز یا جنگی طیاروں کی پیشکش کی اہمیت کم رہ جاتی ہے۔

ٹرمپ نے  ایران کے حوالے سے انتہائی سخت دعوے کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی نظام کو مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے، اس کی بحری اور فضائی صلاحیتیں تباہ ہو چکی ہیں، جبکہ  آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانے والی کشتیوں کو بھی ڈبو دیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران میں اب کوئی ایسی قیادت موجود نہیں جس سے مذاکرات کیے جا سکیں، اور یہاں تک دعویٰ کیا کہ ممکنہ نئی اعلیٰ قیادت بھی زندہ نہیں۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پرتشدد رجیمز کو ایٹمی ہتھیار حاصل نہیں ہونے چاہئیں، اور الزام لگایا کہ اگر ایران کے پاس ایٹمی بم ہوتا تو وہ اسے استعمال کر چکا ہوتا۔

 ان کے مطابق ایران خطے میں عدم استحکام پیدا کر رہا ہے اور مشرقِ وسطیٰ میں بالادستی حاصل کرنا چاہتا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں کہا کہ آیا جنگ جلد ختم ہو جائے گی جبکہ فی الحال کچھ کہنا قبل از وقت ہے، تاہم امید ہے کہ تنازع جلد ختم ہو جائے گا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ وہ چین کا دورہ کرنا چاہتے تھے لیکن موجودہ حالات کے باعث اسے مؤخر کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔

اس سے قبل بھی امریکی صدر چین، جاپان اور دیگر ممالک سے اپیل کر چکے ہیں کہ وہ آبنائے ہرمز کو محفوظ بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں، کیونکہ ان ممالک کی تیل کی بڑی مقدار اسی راستے سے گزرتی ہے۔

واضح رہے کہ عالمی تجزیہ کاروں اور میڈیا رپورٹس کے مطابق خطے میں کشیدگی بدستور برقرار ہے، جبکہ سفارتی سطح پر تناؤ کم کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ اسی لیے ان بیانات کو احتیاط سے دیکھنے کی ضرورت ہے، کیونکہ یہ ممکن ہے کہ یہ سیاسی مؤقف یا دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی کا حصہ ہوں۔