سٹی42: بنگلہ دیش میں آرمی کے ایک سینئیر جنرل کے خلاف بغاوت کی سازش کے شبہ میں کارروائی کی جا رہی ہے۔ انڈیا کا میڈیا اس جنرل کو پاکستان کے قریب قرار دے رہا ہے جبکہ پاکستان کا میڈیا اس معاملہ پر خاموش ہے۔
انڈیا ٹوڈے نے دعویٰ کیا ہے کہ بنگلہ دیش کے آرمی چیف کو جماعت اسلامی کے ایک معروف ہمدرد" لیفٹیننٹ جنرل فیض الرحمن کی جانب سے ان کے علم میں لائے بغیر ملاقاتوں کے حوالے سے کارروائی کا سامنا ہے۔
انڈیا ٹوڈے نے اپنی مختصر رپورٹ مین دعویٰ کیا کہ لیفٹیننٹ جنرل فیض الرحمان کو زیر نگرانی رکھا گیا ہے۔ انڈیا ٹوڈے نے مزید لکھا کہ لیفٹیننٹ جنرل فیض الرحمان "مبینہ طور پر" بنگلہ دیشی فوج میں بغاوت کی کوشش کر رہہے تھے۔
انڈیا ٹوڈے نے الزام لگایا کہ لیفٹیننٹ جنرل فیض الرحمان نے پاکستانی سفارت کاروں سے کئی ملاقاتیں کیں۔
انڈیا ٹوڈے کے مطابق اس کے "ذرائع" نے بتایا کہ پاکستان کے ساتھ قریبی تعلقات رکھنے والے بنگلہ دیش کے ایک سینئر فوجی اہلکار کو مبینہ طور پر فوج میں بغاوت کرنے کی کوشش کرنے کے الزام میں زیر نگرانی رکھا گیا ہے۔
انڈیا ٹوڈے نے رپورٹ میں لکھا کہ آرمی چیف وقار الزمان نے یہ حکم اس وقت پاس کیا جب انہیں لیفٹیننٹ جنرل فیض الرحمان، ایک کوارٹر ماسٹر جنرل (کیو ایم جی) کی طرف سے ان کی جگہ لینے کی کوشش کرنے کی بُو محسوس ہوئی۔
انڈیا ٹوڈے کے مطابق یہ اقدام ( لیفٹیننٹ جنرل فیض الرحمان کی مبینہ نگرانی) اس وقت سامنے آیا جب چیف سیکرٹریٹ میں "جماعت کے ایک معروف ہمدرد" لیفٹیننٹ جنرل فیض الرحمن کی جانب سے ان کے علم میں لائے بغیر ملاقاتوں کی سرگرمی کو فلیگ کیا گیا۔
اندیا ٹوڈے نے اپنی "بغاوت کی سازش" کی کہانی کو آگے بڑھاتے ہوئے لکھا کہ اسے "ذرائع نے بتایا " کہ ڈویژنل کمانڈروں کے ساتھ یہ (جنرل فیض الرحمان کی) ملاقاتیں بنگلہ دیشی فوج کے قائم مقام چیف کے خلاف حمایت اکٹھی کرنے کے لیے کی جا رہی تھیں۔ تاہم، وہ مناسب حمایت حاصل کرنے میں ناکام رہے۔
لیفٹیننٹ جنرل فیض الرحمان نے مارچ کے پہلے ہفتے میں اہم ڈویژنل کمانڈرز (جی او سیز) کا اجلاس بلایا تھا۔ تاہم آرمی چیف کے سیکرٹریٹ کو اس میٹنگ کے بارے میں (بعد میں) پتہ چلا اور اعلیٰ حکام کو وارننگ بھیج دی گئی۔ جس کے بعد اعلیٰ حکام اہم اجلاس سے پیچھے ہٹ گئے۔
انڈیا ٹوڈے نے دعویٰ کیا کہ 2025 کے پہلے دو مہینوں میں لیفٹیننٹ جنرل فیض الرحمان نے جماعت اسلامی کے رہنماؤں اور پاکستانی سفارت کاروں سے کئی ملاقاتیں کیں۔ بنگلہ دیش کے آرمی چیف کو ان ملاقاتوں کے بارے میں آگاہ کیا گیا جس کے بعد وہ محتاط ہوگئے اور انہیں(جنرل فیض الرحمان کو) زیر نگرانی رکھنا شروع کر دیا۔
انڈیا ٹوڈے میں بنگلہ دیشی فوج کے اندر نام نہاد بغاوت کی وکشش کی یہ رپورٹ ایک ایسے وقت میں شائع ہوئی ہے جب بنگلہ دیش میں گزشتہ چند مہینوں سے تشدد، توڑ پھوڑ اور فسادات کے ساتھ انڈیا کے اثر و رسوخ کی بساط بھی عملاً لپیٹ دی گئی ہے۔ اب انڈیا کے میڈیا کو وہاں ایک بار پھر بدامنی نظر آ رہی ہے اور ہر طرف سازشوں کی بو آ رہی ہے۔
بنگلہ دیش میں حالیہ مظاہروں میں معزول وزیر اعظم شیخ حسینہ کے خاندان سے منسلک املاک کو توڑ پھوڑ کا نشانہ بنایا گیا، جس میں ان کے والد شیخ مجیب الرحمان کا ڈھاکہ کا گھر بھی شامل ہے۔ شیخ حسینہ واجد احتجاجی مظاہروں سے گھبرا کر وزارت عظمی سے استعفیٰ دے کر انڈیا فرار ہو گئی تھیں۔
حسینہ واجد کے ملک سے بھاگنے کے بعد تمام کلیدی عہدوں پر ان کے انسٹال کئے ہوئے مہروں کا بھی صفایا ہو گیا اور انڈیا کے اس غریب پڑوسی ملک میں سیاسی رسہ کشی سے فائدہ اٹھا کر اپنا اثرو رسوخ بے تحاشا بڑھاتے جانے کے سلسلہ کا بھی خاتمہ ہو گیا۔
بنگلہ دیش میں انڈیا کے اثر و رسوخ کا خاتمہ ہونے کے ساتھ ایک حیران کرنے والی ڈیویلپمنٹ یہ ہوئی کہ پاکستان کے ساتھ بنگلی دیش کی عبوری حکومت کے تعلقات بہت اچھے ہو گئے۔ اس خوشگوار تبدیلی کو پاکستان میں اعلیٰ ترین سطحوں پر کئی مرتبہ اکنالج کیا گیا اور اس خواہش کا اظہار کیا گیا کہ پاکستان اور بنگلہ دیش ماضی کی تلخ یادوں سے نکل کر ایک دوسرے کے ساتھ قریبی تعلق استوار کرنے کی طرف آگے بڑھیں۔
گزشتہ ماہ آرمی چیف جنرل وقار الزمان نے کہا کہ ملک میں امن و امان کی تیزی سے بگڑتی ہوئی صورتحال کا سبب سیاسی انتشار ہے۔ انہوں نے مسلح افواج کے اندر اتحاد اور نظم و ضبط کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
آرمی چیف نے ایک تقریب میں کہا کہ "ہم نے جس انتشار کا مشاہدہ کیا ہے وہ ہماری اپنی تخلیق ہے۔"