(ویب ڈیسک) امریکہ نے بدھ کے روز ایران کے ساتھ ہفتے کے آخر میں طے پانے والی مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کا سرکاری متن جاری کر دیا۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایک سینئر امریکی عہدیدار نے 14 نکاتی دستاویز پڑھ کر سنائی، جس میں آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے، ایران پر بعض مالی پابندیوں میں نرمی اور مستقبل کے تکنیکی مذاکرات میں ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق توقعات بیان کی گئی ہیں۔
’’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت برائے ریاستہائے متحدہ امریکہ و اسلامی جمہوریہ ایران‘‘کے عنوان سے جاری اس دستاویز کو عوامی سطح پر متن جاری نہ کئے جانے پر ہونے والے احتجاج کے بعد شائع کیا گیا۔
سینئر امریکی عہدیدار نے کہا ہے کہ ’’یہ بنیادی طور پر ایک ایسا معاہدہ ہے جو ہمیں فوری طور پر آبنائے ہرمز کھولنے کی اجازت دیتا ہے، ایرانیوں کو جوہری مواد ختم کرنے کے لیے پابند کرتا ہے، اور پھر ہمیں ایک ایسا نظام فراہم کرتا ہے جس کے تحت اگر ایران اپنا مثبت رویہ بڑھاتا ہے تو ہم بھی معاشی اور پابندیوں میں نرمی بڑھا سکتے ہیں، جس سے وہ ایک زیادہ خوشحال ملک بن سکتا ہے‘‘۔
اس مفاہمتی یادداشت پر باضابطہ دستخط جمعہ کو متوقع ہیں، جس کے بعد حتمی معاہدے کی شرائط طے کرنے کے لیے 60 دن کی مدت شروع ہو جائے گی۔
سی این این نے اس سے قبل معاہدے کے مسودے کی خبر دی تھی، جبکہ امریکہ کی جانب سے جاری کردہ حتمی متن بڑی حد تک اسی سے ملتا جلتا ہے، اگرچہ بعض الفاظ اور جملوں میں فرق موجود ہے۔