ملک اشرف: لاہور ہائیکورٹ نے سیالکوٹ وومن یونیورسٹی کی اراضی سے متعلق کیس میں ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ صباح اصغر کے خلاف دائر توہین عدالت کی درخواست پر نوٹس جاری کرتے ہوئے تین ہفتوں میں جواب طلب کر لیا۔
درخواست کی سماعت جسٹس حسن نواز مخدوم نے کی جبکہ درخواست گزار نوید خالد کی جانب سے میاں داؤد ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے۔
درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ لاہور ہائیکورٹ پہلے ہی سیالکوٹ وومن یونیورسٹی کی اراضی ایکوائر کرنے سے متعلق تمام کارروائی معطل کر چکی ہے، تاہم عدالتی حکم امتناعی کے باوجود ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ نے مبینہ طور پر محکمہ تعمیرات و مواصلات کو مراسلہ ارسال کیا۔
وکیل کے مطابق مراسلے میں یونیورسٹی کی اراضی پر سرکاری افسران کے دفاتر تعمیر کرنے کے منصوبے کے لیے نقشہ، ماسٹر پلان اور دیگر تفصیلات طلب کی گئیں، جو عدالتی حکم کے باوجود منصوبے پر پیش رفت کے مترادف ہے۔
درخواست میں مؤقف اپنایا گیا کہ عدالتی حکم امتناعی کے باوجود منصوبے سے متعلق کارروائی آگے بڑھانا توہین عدالت کے زمرے میں آتا ہے، لہٰذا ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔
عدالت نے ڈپٹی کمشنر صباح اصغر کو نوٹس جاری کرتے ہوئے تین ہفتوں کے اندر تفصیلی جواب جمع کرانے کا حکم دے دیا، جبکہ کیس کی مزید سماعت بعد میں ہوگی۔