عابد چودھری: سی سی پی او لاہور بلال صدیق کمیانہ، ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران اور ڈی آئی جی انویسٹی گیشن ذیشان رضا نے مشترکہ نیوز کانفرنس کرتے ہوئے محرم الحرام کے سکیورٹی انتظامات اور جرائم کی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی۔
سی سی پی او بلال صدیق کمیانہ نے بتایا کہ لاہور میں 373 امام بارگاہوں اور 93 اہل تشیع مساجد میں تقریباً 4 ہزار مجالس منعقد ہوں گی، جن کی سکیورٹی کیلئے جامع پلان ترتیب دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 9 کنٹرول رومز قائم کیے گئے ہیں جبکہ سیف سٹیز اتھارٹی کی جانب سے 24 گھنٹے مانیٹرنگ کی جائے گی۔
انہوں نے بتایا کہ سیف سٹیز نے پینک بٹن اور کیو آر کوڈ کا جدید نظام متعارف کرایا ہے، جس کے ذریعے کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری رسپانس ممکن بنایا جائے گا۔ محرم کے دوران روٹ کی خلاف ورزی پر زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جائے گی جبکہ تمام جلوسوں کو تھری لیئر اور مرکزی جلوس کو فور ٹیئر سکیورٹی فراہم کی جائے گی۔
بلال صدیق کمیانہ کا کہنا تھا کہ دفعہ 144 پر سختی سے عملدرآمد کرایا جائے گا اور لاوڈ اسپیکر کے غیر قانونی استعمال کی اجازت نہیں ہوگی۔ اینٹی رائٹ فورس، ڈولفن سکواڈ اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی سکیورٹی فرائض انجام دیں گے جبکہ سرچ آپریشنز محرم کے دس روز تک جاری رہیں گے۔
اس موقع پر ڈی آئی جی انویسٹی گیشن ذیشان رضا نے بتایا کہ پنکی نامی ملزمہ پانچ مقدمات میں نامزد ہے اور تمام قانونی کارروائی مکمل کی جا چکی ہے۔ کراچی میں عدالتی معاملات مکمل ہونے کے بعد اسے لاہور منتقل کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ڈی ایس پی اظہر کے بیٹے کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ ڈی ایس پی اظہر اس وقت پاکستان سے باہر ہیں۔ خواتین کے لاپتہ ہونے کے مختلف کیسز پر بھی تحقیقات جاری ہیں۔
ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے کہا کہ غیر قانونی مقیم غیر ملکیوں کے خلاف آپریشنز تسلسل کے ساتھ جاری ہیں اور موصول ہونے والی اطلاعات پر فوری کارروائی عمل میں لائی جاتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ڈولفن فورس کی موٹر سائیکلیں اب تک 4 لاکھ کلومیٹر سے زائد سفر کر چکی ہیں، جن میں ہائی آکٹین ایندھن استعمال کیا جاتا ہے جبکہ ان کی مرمت اور دیکھ بھال پر بھی خاطر خواہ اخراجات آتے ہیں۔
سی سی پی او لاہور نے کہا کہ سی سی ڈی کے قیام کے بعد جرائم میں واضح کمی آئی ہے اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کیلئے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔