ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

  یوکرین کا ماسکو کی سب سے بڑی آئل ریفائنری پر ڈرون حملہ، خوفناک آگ بھڑک اُٹھی

  یوکرین کا ماسکو کی سب سے بڑی آئل ریفائنری پر ڈرون حملہ، خوفناک آگ بھڑک اُٹھی
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک  :یوکرین کی جانب سے ماسکو کی سب سے بڑی آئل ریفائنری پر ڈرون حملہ کیا گیا ہے جس کے بعد ریفائنری میں خوفناک آگ بھڑک اُٹھی، حملے کے بعد ماسکو میں آئل سپلائی چین متاثر ہونے کی اطلاعات ہیں ۔

  صنعت سے وابستہ دو ذرائع نے رائٹرز کو بتایا کہ حملے کے بعد ریفائنری کی سرگرمیاں معطل کر دی گئی ہیں، ذرائع کے مطابق جنوب مشرقی ماسکو میں واقع گیزپروم نیفٹ کی ریفائنری پر حملے سے مرکزی ریفائننگ یونٹ کو نقصان پہنچا، جو پلانٹ کی مجموعی پیداواری صلاحیت کا 53 فیصد حصہ رکھتا ہے۔

 نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کرنے والے ذرائع نے بتایا کہ ریفائنری کا دوسرا یونٹ جلد دوبارہ کام شروع کر سکتا ہے، رائٹرز کی جانب سے تصدیق شدہ عینی شاہدین کی ویڈیوز میں حملے کے بعد ریفائنری سے بلند ہوتے شعلے اور گھنے سیاہ دھوئیں کے بادل دکھائی دیے۔

 بعد ازاں مقامی ایمرجنسی سروسز نے کہا کہ آگ پر قابو پا لیا گیا ہے اور اس سے ریفائنری کی سرگرمیاں متاثر نہیں ہوئیں، تاہم یہ دعویٰ ان صنعتی ذرائع کی معلومات سے متصادم ہے جن کے مطابق حملے کے بعد آپریشنز روک دیے گئے تھے۔

 ماسکو کے میئر  سرگئی نے تصدیق کی کہ حملے میں تنصیب کے ایک حصے کو نقصان پہنچا ہے، تاہم انہوں نے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

 دوسری جانب یوکرینی ڈرون حملوں کے بڑھتے ہوئے اثرات کی ایک اور مثال میں روسی تیل کمپنی Tatneft نے گزشتہ ہفتے تاتارستان میں اپنی ریفائنری پر حملے کے بعد ملک بھر میں اپنے فیول اسٹیشنز پر ایندھن کی خریداری کی حد مقرر کرنے کا اعلان کیا ہے۔

 روس کی جنگی فنڈنگ کے ایک بڑے ذریعے کو نشانہ بنانے کی حکمت عملی کے تحت یوکرین نے 2026 کے آغاز سے روسی آئل ریفائنریز پر حملوں میں دوگنا اضافہ کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں کئی ریفائنریز جزوی یا مکمل طور پر بند ہو چکی ہیں اور پٹرول، ڈیزل اور جیٹ فیول کی پیداوار میں کمی واقع ہوئی ہے۔

 سرکاری اعداد و شمار، سوشل میڈیا رپورٹس اور رائٹرز کے تجزیوں کے مطابق ان حملوں سے روس کی مقامی ایندھن مارکیٹ پر دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے, روس کے مختلف علاقوں میں ایندھن کی فراہمی میں مقامی سطح پر مشکلات کی اطلاعات سامنے آئی ہیں, روسی وزارتِ توانائی نے کسانوں کو یقین دہانی کرائی کہ فصلوں کی کٹائی کے اہم موسم میں ایندھن کی مناسب فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔

 یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی نے کہا کہ ماسکو کی ریفائنری کو تقریباً 500 کلومیٹر دور سے نشانہ بنایا گیا، جو یوکرین کی طویل فاصلے تک مار کرنے والی صلاحیت کا مظہر ہے, انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ یہ روسی حملوں اور اس جنگ کے طول پکڑنے کا منصفانہ جواب ہے، جسے اب ختم ہونا چاہیے۔

 زیلنسکی اس وقت فرانس میں منعقدہ جی سیون سربراہی اجلاس میں شریک ہیں، جہاں وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور یورپی اتحادیوں کو یہ باور کرانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ جنگی محاذ پر یوکرین کی پوزیشن بہتر ہوئی ہے اور اسے مزید حمایت کی ضرورت ہے۔

 ماسکو کی مذکورہ ریفائنری، جسے ماضی میں بھی کئی بار نشانہ بنایا جا چکا ہے، نے 2024 کے دوران 11.6 ملین میٹرک ٹن خام تیل پراسیس کیا تھا، جس سے 2.9 ملین ٹن پٹرول اور 3.2 ملین ٹن ڈیزل تیار کیا گیا تھا، روس کے زیرِ انتظام کریمیا، جنوبی کراسنودار ریجن اور دیگر علاقوں میں ایندھن کے حصول کے لیے گاڑیوں کی طویل قطاریں دیکھی جا رہی ہیں، جو ان حملوں کے مقامی اثرات کو نمایاں کرتی ہیں۔

 کریمیا ان علاقوں میں شامل ہے جہاں رواں ماہ ایندھن کے ذخائر محفوظ رکھنے کے لیے فروخت پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں، روس کی پانچویں بڑی آئل کمپنی اور تیسری بڑی ریفائنر کمپنی ٹیٹ نیفٹ نے ملک بھر میں اپنے سینکڑوں فیول اسٹیشنز پر ایندھن کی خریداری کی حد مقرر کرنے کا اعلان کیا، جو ایسا کرنے والی پہلی بڑی ریٹیل کمپنی بن گئی ہے۔

 ماسکو کے جنوب میں واقع سرپوخوف ضلع میں ٹیٹ نیفٹ کے ایک اسٹیشن پر فی گاڑی صرف 20 لیٹر پٹرول یا 40 لیٹر ڈیزل فروخت کیا جا رہا تھا اور ادائیگی صرف نقد رقم میں قبول کی جا رہی تھی، صنعتی ذرائع کے مطابق ٹیٹ نیفٹ کی تاتارستان میں واقع ٹانیکو آئل ریفائنری نے 12 جون کے ڈرون حملے کے بعد خام تیل کی پراسیسنگ عارضی طور پر معطل کر دی ہے۔

 مشرقی یوکرین کے روسی کنٹرول والے علاقے ڈونیٹسک میں بھی اس ماہ ایندھن کی قلت دیکھی گئی، منگل کے روز شہر کے بعض پٹرول پمپس پر ایندھن دستیاب نہیں تھا، جبکہ کئی مقامات پر ڈرائیوروں کو ایندھن حاصل کرنے کے لیے تین گھنٹے تک انتظار کرنا پڑا۔