قیصر کھوکھر:پنجاب حکومت نے قیدیوں کی بحالی اور جیلوں میں متشدد رویوں کے خاتمے کے لیے ایک منفرد اور جامع منصوبہ شروع کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ پہلی بار صوبے کی تمام جیلوں میں قیدیوں کے رویوں کی جانچ، نفسیاتی معاونت اور بحالی کے لیے باقاعدہ ڈی ریڈیکلائزیشن پروگرام متعارف کرایا جائے گا۔
اس منصوبے کا فیصلہ محکمہ داخلہ پنجاب میں ہونے والے اعلیٰ سطح کے اجلاس میں کیا گیا، جس کی صدارت سیکرٹری داخلہ پنجاب ڈاکٹر احمد جاوید قاضی نے کی۔ اجلاس میں قیدیوں کی ڈی ریڈیکلائزیشن اور ری ہیبلیٹیشن کے لیے تیار کیے جانے والے فریم ورک ماڈل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں آئی جی پریژن میاں سالک جلال، چیف کوآرڈینیشن آفیسر غلام صغیر شاہد، ایڈیشنل سیکرٹری پریژن رومان بورانہ اور ڈپٹی کوآرڈینیشن آفیسر ڈاکٹر احمد خاور بھی شریک ہوئے۔
منصوبے کے تحت پنجاب کی تمام جیلوں میں ڈی ریڈیکلائزیشن سینٹرز قائم کیے جائیں گے، جہاں قیدیوں کے ساتھ ساتھ جیل عملے کی بھی نفسیاتی اسیسمنٹ کی جائے گی۔ ان مراکز میں عدم تشدد، مثبت رویوں اور سماجی بحالی سے متعلق خصوصی تربیت فراہم کی جائے گی، جبکہ دہشت گردی کے مقدمات میں ملوث افراد اور بار بار جرائم کرنے والے قیدیوں کی خصوصی کونسلنگ بھی کی جائے گی۔
حکام کے مطابق پروگرام کے دوران متشدد رویوں کے حامل اسیران کی نشاندہی کی جائے گی، ان کی شخصیت، طرزِ فکر اور رویوں کا نفسیاتی جائزہ لے کر مناسب علاج اور بحالی کا عمل شروع کیا جائے گا۔
تفصیلات کے مطابق اس منصوبے میں ایسے قیدیوں کے اہل خانہ کو بھی تربیتی پروگرام کا حصہ بنایا جائے گا تاکہ رہائی کے بعد ان کی مؤثر سماجی بحالی ممکن بنائی جا سکے۔ پروگرام کے تحت ہر ماہ متعلقہ اسیران کی پیش رفت پر مبنی رپورٹ بھی مرتب کی جائے گی۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سیکرٹری داخلہ پنجاب ڈاکٹر احمد جاوید قاضی نے محکمہ جیل خانہ جات کو خصوصی تربیتی مینوئل تیار کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ قیدیوں کی بحالی کا یہ منصوبہ ایک عظیم قومی خدمت ثابت ہوگا۔
انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کی مذہبی، معاشرتی اور ثقافتی روایات کو مدنظر رکھتے ہوئے خصوصی تربیتی ماڈلز تیار کیے جائیں، جبکہ اسیران کی رہائی سے قبل ان کی کونسلنگ کا عمل بھی ہر صورت مکمل کیا جائے۔