سٹی42: اسرائیل میں جمعرات کو حماس سے متعدد یرغمالیوں کی لاشیں واپس حاصل کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے جیسا کہ معاہدے میں طے کیا گیا تھا۔
ٹائمز آف اسرائیل نے کان پبلک براڈکاسٹر کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ اسرائیل جمعرات کو حماس سے پانچ مغویوں کی لاشیں وصول کرنے کی توقع کر رہا ہے۔
حماس کے ساتھ دوحہ میں ہونے والے یرغمالیوں کی واپسی کے معاہدے میں یہ شرط رکھی گئی ہے کہ اس جمعرات کو جنگ بندی کے 33ویں دن متعدد یرغمالیوں کی لاشیں اسرائیل کو واپس کی جائیں گی۔
کان نے رپورٹ کیا ہے کہ IDF نے پہلے ہی تیاریاں شروع کر دی ہیں۔ اس رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ پانچوں کو حماس کی قید میں رہتے ہوئے ہلاک کیا گیا۔
اسرائیل کے حکام کو توقع ہے کہ اسیری کے دوران مر چکےیرغمالیوں کے نام جمعرات کی صبح اسرائیل کو بتائے جائیں گے اور انہیں IDF ایمبولینسز کے ذریعے ابو کبیر فرانزک انسٹی ٹیوٹ لے جایا جائے گا۔ کان کا کہنا ہے کہ لاشوں کی صحیح شناخت کے بعد اہل خانہ کو اپ ڈیٹ کیا جائے گا۔
والہ نیوز سائٹ کا کہنا ہے کہ واپس آنے والی لاشوں کی تعداد پانچ نہیں بلکہ چار ہے۔
وزیر اعظم کے دفتر نے ابھی تک اس کی تصدیق نہیں کی ہے۔
تین زندہ یرغمالیوں کی ہفتے کے روز رہائی متوقع ہے۔
اسرائیل میں اس سوال پر سخت بے چینی ہے کہ حماس کی تحویل میں باقی زندہ یرغمالیوں کی تعداد کتنی ہے، ان کے نام کیا ہیں اور کتنے یرغمالی سولہ ماہ کی قید اور جنگ کے دوران مر چکے ہیں۔
اس جمعرات کو پہلی مرتبہ یہ ہونے جا رہا ہے کہ کچھ لاشیں اسرائیل لا کر ان کی واپسی کے منتظر لواحقین کے سپرد کی جائیں گی۔