ملک اشرف : لاہور ہائیکورٹ میں پسند کی شادی کرنے والی لڑکی کی بازیابی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، عدالت نے لڑکی کو اس کے شوہر کے ساتھ جانے کی اجازت دے دی۔ تاہم عدالتی کارروائی مکمل ہونے کے بعد کمرہ عدالت کے باہر فریقین آپس میں لڑ پڑے، جس پر پولیس اہلکاروں نے بیچ بچاؤ کرایا۔
جسٹس صادق محمود خرم نے پسند کی شادی کرنے والی لڑکی کی بازیابی سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران لڑکی کو عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں عدالت نے اس کا مؤقف معلوم کرنے کے بعد اسے اپنی مرضی کے مطابق اپنے شوہر کے ساتھ جانے کی اجازت دے دی۔عدالتی کارروائی مکمل ہونے کے بعد جیسے ہی فریقین عدالت سے باہر نکلے تو مبینہ طور پر ان کے درمیان تلخ کلامی ہوگئی، جو بعد ازاں جھگڑے میں تبدیل ہوگئی۔
فریقین کے درمیان ہونے والے جھگڑے کے باعث کمرہ عدالت کے باہر کچھ دیر کے لیے صورتحال کشیدہ ہوگئی۔پولیس اہلکاروں نے فوری طور پر مداخلت کرتے ہوئے دونوں جانب کے افراد کو الگ کیا اور بیچ بچاؤ کرایا۔ پولیس کی مداخلت کے بعد صورتحال پر قابو پالیا گیا۔عدالت کی اجازت ملنے کے بعد پسند کی شادی کرنے والی لڑکی اپنے شوہر کے ہمراہ روانہ ہوگئی۔ کیس کی عدالتی کارروائی مکمل ہونے کے بعد فریقین کے درمیان ہونے والا جھگڑا عدالت کے باہر توجہ کا مرکز بن گیا۔