رائو دلشاد: گوگل پنجاب میں ایک لاکھ سے زائد طلبہ کو سرٹیفکیشن کورسز مفت کرائے گا، جبکہ پنجاب کے 98 فیصد طلبہ نے سی ایم پنجاب لیپ ٹاپ سکیم پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔
پنجاب میں پہلی مرتبہ کالجز ایجوکیشن کی سٹینڈرڈ رائزیشن کا اصولی فیصلہ کیا گیا ہے اور وزیراعلیٰ نے کالج طلبہ کے لیے الیکٹروبس فیسلیٹی کی منظوری بھی دے دی ہے۔
وزیراعلیٰ مریم نواز نے ہونہار سکالر شپ کے تحت تمام اہل طلبہ کو وظیفہ دینے کا حکم دیا ہےجبکہ پنجاب کی تاریخ میں پہلی بار یکمشت 62,949 طلبہ کو ہونہار سکالر شپ دیے جائیں گے۔
ذرائع کے مطابق پنجاب کے تمام کامرس کالجز کا یونیورسٹیوں سے الحاق کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ 29 اضلاع کے 36 کامرس کالجز کو 19 سرکاری یونیورسٹیوں سے منسلک کیا جائے گا، جہاں بزنس، اکاؤنٹنگ، فنانس، بینکنگ اور آئی ٹی سمیت 14 ڈسپلن میں بی ایس پروگرامز پڑھائے جائیں گے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ نے سرگودھا اور دیگر اضلاع کے سکولوں میں بہتری کے لیے جنگی بنیادوں پر کام کی ہدایت کی ہے جبکہ پنجاب کے 166 سرکاری کالجز میں نئی جدید آئی ٹی لیبز بنانے کی منظوری بھی دی گئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق کالجز میں پہلی مرتبہ پرنسپلز، اساتذہ اور اداروں کے لیے کے پی آئیز مقرر کیے گئے ہیں جبکہ یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز کی کارکردگی بھی انہی کے پی آئیز کے مطابق جانچی جائے گی۔
مزید برآں، وزیراعلیٰ نے اقلیتی طلبہ کو بھی اوپن میرٹ پر لیپ ٹاپ دینے کی ہدایت کی ہے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز کی زیر صدارت اجلاس میں سکول اور ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے منصوبوں پر پیشرفت کا جائزہ لیا گیا، جبکہ گوگل سرٹیفکیشن کورسز کی 400 سے 1000 ڈالر فیس حکومت برداشت کرے گی۔
ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے 30 ہزار طلبہ کے لیے ہونہار سکالر شپ کی سمری پیش کی تھی، جبکہ لیپ ٹاپ پروگرام فیز ون میں 38 ہزار سے زائد طلبہ مستفید ہو چکے ہیں جبکہ فیز ٹو کے لیے 142,000 طلبہ نے درخواست دی ہے۔
پیکٹا کے تحت گریڈ 8 اسسمنٹ امتحانات میں 9 لاکھ 94 ہزار طلبہ نے شرکت کی، جن میں طالبات کی کامیابی کا تناسب 92 فیصد اور طلباء کا 84 فیصد رہا، جبکہ وزیراعلیٰ نے پہلی تینوں پوزیشنز طالبات کے نام آنے پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔