سٹی42: ایک غیر معمولی پیش رفت میں سعودی عرب کے وزیردفاع پرنس خالد بن سلمان نے ایران کا دورہ کیا ہے۔
معلوم ہوا ہے کہ سعودی عرب کے وزیر دفاع پرنس خالد بن سلمان نے ایران کے روحانی رہنما آیت اللہ خامنہ ای سے ملاقات کی اور انہیں کنگ سلمان کا پیغام پہنچایا۔
سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان ن کی ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای سے ملاقات اور انہیں شاہ سلمان بن عبدالعزیز کا پیغام پہنچانے کی خبر ایران کے سرکاری میڈیا نے دی ہے۔
انٹرنیشنل نیوز ایجنسی روئٹرز نے ایران کے سرکاری میڈیا کے حوالے سے بتایا کہ وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان جمعرات کو وفد کے ہمراہ ایران پہنچے، اور انہوں نے شاہ سلمان بن عبدالعزیز کا پیغام ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کو پہنچایا تاہم اس پیغام کی تفصیلات نہیں بتائی گئیں۔

یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ایران اور امریکہ کے دوران ایرانی ایٹمی پروگرام پر مذاکرات کا دوسرا دور روم میں منعقد ہورہا ہے۔ دوسری طرف امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان پر امن سویلین استعمال کے لئے نیوکلئیر تعاون کا 123 ایگریمنٹ سائن ہونے کے قریب پہنچنے کی بھی خریں سامنے آئی ہیں۔

ایرانی سرکاری میڈیا نے ملاقات میں خامنہ ای کے حوالے سے کہا،’ ہمارا عقیدہ ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند ہیں۔’
سرکاری میڈیا کے مطابق سپریم لیڈڑ نے ریاض کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے تہران کی آمادگی کا اظہار کیا۔
واضح رہے کہ ایران اور سعودی عرب نے برسوں کی کشیدگی کے بعد 2023 میں چین کی ثالثی میں طے پانے والے ایک معاہدے کے بعد سفارتی تعلقات بحال کیے تھے۔
سعودی عرب نے ہفتے کے روز سرکاری خبر رساں ایجنسی کی جانب سے شائع ایک بیان میں امریکا کے ساتھ ایران کے جوہری مذاکرات کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ علاقائی اور بین الاقوامی تنازعات کے حل کی کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق، ایرانی مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف محمد باقری نے تہران میں سعودی وزیر سے ملاقات کے بعد کہا کہ بیجنگ معاہدے کے بعد سے سعودی اور ایرانی مسلح افواج کے درمیان تعلقات بہتر ہو رہے ہیں۔
ایران اور سعودی عرب نے 2023 کے معاہدے میں چین کی ثالثی میں برسوں کی دشمنی کے بعد تعلقات کو دوبارہ قائم کرنے پر اتفاق کیا تھا ۔ سعودی عرب اور ایران کی کشیدگی سے خلیج میں استحکام اور سلامتی کو خطرہ لاحق تھا اور یمن سے شام تک مشرق وسطیٰ میں تنازعات کو ہوا دینے میں مدد ملی تھی۔
سعودی عرب نے اس سے پہلے ملک کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کی طرف سے شائع ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ امریکہ کے ساتھ ایران کے جوہری مذاکرات کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ وہ علاقائی اور بین الاقوامی تنازعات کو حل کرنے کی کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔
ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق، ایران کی مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف محمد باقری نے تہران میں سعودی وزیر سے ملاقات کے بعد کہا کہ "بیجنگ معاہدے کے بعد سے سعودی اور ایرانی مسلح افواج کے درمیان تعلقات میں بہتری آ رہی ہے۔"