ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

ایران کی ایٹمی تنصیبات پر حملہ کا اسرائیلی پلان صدر ٹرمپ نے روک دیا

Prime Minister of Israel, PMO, Netanyahu, The New Yark Times Report, Irani nuclear program,
کیپشن:      سات سال پرانی اس فوٹو میں وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو 30 اپریل 2018 کو تل ابیب میں ایک پریس کانفرنس کے دوران ایرانی جوہری ہتھیاروں کی تیاری پر مواد پیش کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ نیتن یاہو آج کل یرغمالیوں کی حماس سے واپسی اور اسرائیل کی سیاست میں کئی وجوہات کی بنا پر مسلسل دباؤ مین ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ انہوں نے نیوارک ٹائمز میں شائع ہونے والے مضمون میں ایران پر حملے کے اپنے پلان کے متعلق اطلاع کو اپنا پبلک امیج بہتر کرنے کے لئے استعمال کرنے کی کوشش کی ہے۔
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42: نیویارک ٹائمز کا یہ انکشاف صحیح نکلا کہ امریکہ کے صدر نے ایک ماہ پہلے ایران کے ایتمہ تنصیبات پر اسرائیل کے حملے کو روک دیا تھا۔ 

یروشلم میں اسرائیلی پرائم منسٹر کے دفتر نے نیویارک ٹائمز کی اس رپورٹ  پر اپنے پہلے تبصرے میں اس مضمون کی تردید نہیں کی جس میں کہا گیا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ماہ ایران کی جوہری تنصیبات پر مجوزہ اسرائیلی حملے کو روک دیا تھا۔  

آج یروشلم میں سامنے آنے والے پی ایم آفس کے بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے ایران کے جوہری پروگرام کے خلاف مہم کی قیادت کی ہے، یہاں تک کہ جب ناقدین نے اس خطرے کو "سیاسی گھماؤ" کہا  یا وزیر اعظم کو "بے وقوف" کہا تب بھی وہ ایران کے ایتمی پروگرام کی مخالفت کرتے رہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ "وزیراعظم  (نیتن یاہو) نے ایران کے جوہری پروگرام کے خلاف تنازعہ میں متعدد ظاہری اور خفیہ کارروائیوں کی قیادت کی ہے،" بیان میںدعویٰ کیا گیا کہ(نیتن یاہو کی) ان کارروائیوں کی وجہ سے آج تہران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہیں۔

تاہم وزیراعظم نیتن یاہو کے دفتر نے اس بات کی کوئی وضاحت نہیں کہ کہ ایک ماہ پہلے اسرائیل کے وزیراعظم کو ایران کی ایٹمی تنصیبات پر حملہ کرنے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی تھی۔

گزشتہ سال جب ایران نے اسرائیل پر اچانک  دو سو کے لگ بھگ بیلسٹک میزائلوں  اور کئی مبینہ سپر سانِک میزائلوں سے حملہ کر دیا تھا  تو اس وقت واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس مین صدر جو بائیڈن تھے۔ اس وقت اسرائیل کے ایران پر جوابی حملہ کے پلان پر صدر جو بائیڈن کی طرف سے تصدیق کی گئی تھی کہ اسرائیل ایران کی تیل کی تنصیبات پر حملے کرنا چاہتا ہے اور صدر بائیڈن نے اسرائیل کو ان حملوں سے روک دیا ہے۔  کچھ دن بعد اسرائیل کی ائیر فورس کے سو کے لگ بھگ طیاروں نے ایران کی کئی فوجی تنصیبات پر محدود حملے کئے تھے، ان حملوں میں نہ ایٹمی تنصیبات کے نزدیک جانے کی کوشش کی گئی تھی نہ ہی تیل کی تنصیبات کو کوئی نقصان پہنچایا گیا تھا۔ 

اس وقت وائٹ ہاؤس میں ڈیموکریٹ صدر تھا، اب جب کہ نیویارک ٹائمز کے مضمون کے مطابق ایک ماہ پہلے ایران کی ایتمی تنصیبات پر حملہ کا اسرائیلی پلان بلاک کیا گیا تب صدر ڈونلڈ ٹرمپ ہیں، جنہوں نے گزشتہ ہفتہ صحافیوں کو بتایا کہ اگر ایران کے ساتھ نیوکلئیر مذاکرات ناکام ہوئے تو اسرائیل ایران پر حملے کی قیادت کرے گا۔

پی ایم او کا کہنا ہے کہ "جیسا کہ وزیر اعظم کئی بار اعلان کر چکے ہیں، اسرائیل ایران کو جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دے گا۔"