سٹی42: ترقی یافتہ معاشرہ اور ریاست کی مسلمہ حیثیت رکھنے والے آسٹریلیا نے ترقی کا ایک اور سنگِ میل عبور کر لیا اور اپنے بچوں کو بچا لیا۔
آسٹریلیا بچوں کے نام نہاد سوشل میڈیا استعمال کرنے پر پابندی لگانے والا دنیا کا پہلا ملک بن ریا ہے۔ قانون تو نومبر 2024 میں ہی بن چکا ہے، یہ دسمبر سے نافذ ہو جائے گا جس کے متعلق سوشل میڈیا کمپنیوں کو آگاہ کر دیا گیا ہے کہ انتظامات کر لیں۔
رائٹرز کے مطابق آسٹریلیا نے سوشل میڈیا کمپنیوں سے کہا ہے کہ وہ کم سے کم مداخلت والے طریقے استعمال کریں تاکہ 16 سال سے کم عمر بچوں کی سوشل میڈیا تک رسائی روکی جا سکے۔ یہ دنیا کا پہلا ایسا قانون ہے جو نوجوانوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی لگاتا ہے اور دسمبر سے نافذ ہوگا۔
دنیا بھر میں سوشل میڈیا کے بچوں (اور بڑوں) پر انتہائی تباہ کن اثرات پر بحث ہو رہی ہے۔اب ماہرین مان رہے ہیں کہ کم عمری میں سوشل میڈیا کا زیادہ استعمال نہ صرف ذہنی دباؤ اور بے چینی بڑھاتا ہے بلکہ تعلیم اور روزمرہ زندگی کو بھی متاثر کرتا ہے۔ انہی ٹھوس مشاہدات کو لے کر آسٹریلیا نے کچھ ماہ پہلے پہلا قدم اٹھایا اور سوشل میڈیا کے پنجے میں بے بس ہو چکی دنیا کو جھنجوڑ دیا۔ جب آسٹڑیلیا کی حکومت نے 16 سال کے بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کرنے پر پابندی لگانے کا قانون پارلیمنٹ میں پیش کیا تو دنیا میں اس پر صرف سرسری بحث کی گئی اور زیادہ تر نے تو اس سے آنکھیں بند کئے رکھیں، کیونکہ اس قانون کو ڈسکس کرنے سےخودد تنقیدی کا اذیت ناک مرحلہ شروع ہو جاتا تھا۔ یہ حقیقت سب جان چکے ہیں لیکن ماننے میں متامل ہیں کہ سوشل میڈیا صرف بچوں کو ہی نہیں بڑوں کو بھی عین اسی پیٹرن پر تباہ کر رہا ہے جس کو بچوں کے حوالے سے آئیڈینٹیفائی کر کے آسٹریلیا نے پابندی لگانے کے لئے پہل کی۔
پارلیمنٹ میں قانون سازی کے مراحل سے گزرنے کے بعد نومبر 2024 میں اس قانون کو اِن ایکٹ کر دیا گیا تھا، البتہ پیچیدہ ٹیکنیکل ایشوز کو لے کر آسٹرییا کے قنان سازوں نے کمپنیوں کو آسٹریلین بچوں کو اپنی ویب سائٹس سے باہر رکھنے کے لئے موڈیولز بنانے کے لئے ایک سال کی مہلت دی جو نومبر کی آخری تاریخ کو تمام ہو رہی ہے۔ اس آسٹریلیا سوشل میڈیا کی یلغار سے اپنے بچوں کو بچا لینے والا دنیا میں پہلا ملک بن گیا ہے۔
آسٹریلیا میں پابندی نافذ کیسے ہو گی
انٹرنیٹ واچ ڈاگ eSafety نے اپنی ہدایات میں کہا ہے کہ کمپنیوں کو ہر صارف کی عمر دوبارہ چیک کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ وہ پہلے سے موجود ڈیٹا اور مصنوعی ذہانت کے ذریعے اندازہ لگا سکتی ہیں کہ کون بچہ ہے اور کون بالغ۔ "انٹرنیٹ واچ ڈاگ" آسٹریلیا کا سرکاری ادارہ ہے اورانٹرنیت میں ہو رہی سرگرمیوں کی نگرانی کرتا ہے،اس کا بنیادی مقصد خصوصاً بچوں اور نوجوانوں کو استحصال سے محفوظ رکھنا ہے۔
انٹرنیٹ واچ ڈٓک کے ای سیفٹی کمشنر جولی انمین گرانٹ نے سوشل میڈیا کمپنیوں کی خودغرضی پر گہری طنز کرتے ہوئے کہا، ’اگر کمپنیاں ہمیں اشتہارات کے لیے بڑی باریکی سے نشانہ بنا سکتی ہیں، تو وہ بچوں کی عمر کا بھی درست اندازہ لگا سکتی ہیں۔‘
انہوں نے یہ بھی کہا کہ بالغ افراد کو کسی بڑی تبدیلی کا سامنا نہیں کرنا چاہیے کیونکہ ہر ایک سے دوبارہ شناخت مانگنا غیر مناسب ہوگا۔
آسٹریلین بچوں کے یوٹیوب دیکھنے / یو ٹیوبِنگ کرنے پر بھی پابندی
آسٹریلین بچوں کو بچانے کے لئے ان کے سوشل میڈیا استعمال کرنے پر پابندی یوٹیوب پر بھی لاگو کی گئی ہے، جسے پہلے استثنا دیا گیا تھا، لیکن دیگر بڑی کمپنیوں جیسے میٹا (فیس بک، انسٹاگرام)، اسنیپ چیٹ اور ٹک ٹاک نے اس پر اعتراض کیا تھا تو آسٹیلیا کے قانون دانوں نے دوسری کمپنیوں کو کوئی رعایت دینے کی بجائے یو ٹیوب پر بھی پابندی لگا دی ہے۔
’ہم سمندر کو تو قابو میں نہیں کر سکتے، لیکن شارک کو ضرور قابو میں رکھ سکتے ہیں۔‘
وفاقی وزیر برائے مواصلات اینیکا ویلز نے کہا، ’ہم سمندر کو تو قابو میں نہیں کر سکتے، لیکن شارک کو ضرور قابو میں رکھ سکتے ہیں۔‘ کمپنیوں کو لازمی طور پر نابالغ اکاؤنٹس بند کرنے، دوبارہ رجسٹریشن روکنے اور شکایات کا نظام فراہم کرنے کے لیے عملی اقدامات کرنے ہوں گے۔
یہ قانون نومبر 2024 میں منظور ہوا تھا اور کمپنیوں کو ایک سال دیا گیا تھا تاکہ وہ تیاری کر سکیں۔ اب 10 دسمبر تک تمام نابالغ صارفین کے اکاؤنٹس بند کرنا لازمی ہوگا۔
آسٹریلیا کے نقشِ قدم پر
سوشل میڈیا کی انسانوں پر تباہ کن یلغار نے صرف آسٹریلیا ہی نہیں دنیا کے کئی ترقی یافتہ ملکوں میں خطرے کی گھنٹی بجائی اور گزشتہ ایک سال میں تین جدید ترین اور ایک جدید سے کچھ زیادہ جدید معاشرہ میں آسٹڑیلیا کی پیروی کرنے کی ابتدا کی گئی۔ پاکستان کی پارلیمنٹ میں بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کرنے پر پابندی لگانے کا قانون کا مسودہ پیش کیا جا چکا ہے اور اس وقت یہ سینیٹ کی ایک کمیٹی میں زیر غور ہے۔
انگلینڈ نے بھی اپنے بچوں کو بچانے کے لئے ایسی ہی قنان سازی کی ابتدا کی ہے۔ جنوبی کوریا نے صرف بچوں نہیں بڑوں کے بھی موبائل فون استعمال کرنے کو محدود کرنے کی سسٹمیٹک کوششوں کا آغاز کر دیا ہے جس میں بالغ سٹوڈنٹس کے تعلیمی اداروں میں بھی موبائل فون لانا منع کرنی کی اہم پیش رفت شامل ہے۔
جاپان کی حکومت ایک قدم مزید آگے بڑھ گئی ہے اور اس نے یہ قانون بنانے کا آغاز کر دیا ہے کہ انسان موبائل فون کو دن میں غالباً دو گھنٹے تک استعمال کیا کریں۔ یہ قانون نان بائنری نوعیت کا ہو گا یعنی اس کی وائلیشن پر سزا نہیں ہو گی لیکن یہ سیل فون، انٹرنیٹ خاص طور سے سوشل میڈیا کی انسانوں پر تباہ کن یلغار سے بچنے کے گہرے احساس کو ضروری متحریک کرے گا۔