سی سی پی او عمر شیخ کی تقرری کیخلاف درخواست پر وفاق،صوبائی حکومت کو نوٹس

سی سی پی او عمر شیخ کی تقرری کیخلاف درخواست پر وفاق،صوبائی حکومت کو نوٹس

سٹی 42 : لاہور ہائیکورٹ نے سابق آئی جی شعیب دستگیر کے تبادلے اور سی سی پی او عمر شیخ کے تقرر کیخلاف درخواست پر وفاقی اور صوبائی حکومت کو نوٹس جاری کرتے ہوئے دوہفتوں میں جواب طلب کرلیا۔

چیف جسٹس لاہور  ہائیکورٹ جسٹس قاسم خان نے مسلم لیگ نون کے رکن پنجاب اسمبلی ملک احمد خان کی درخواست پر سماعت کی ۔جس میں سابق آئی پنجاب شعیب دستگیر کے تبادلے اور نئے آئی جی پولیس انعام غنی اور سی سی پی او عمر شیخ کے تقرر کو چیلنج کیا گیا ہے۔درخواستگزارملک محمد احمد خان نے نشاندہی کی کہ آئی جی پولیس کا تبادلہ پولیس آرڈر 2002 کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

ملک احمد نے یہ بھی نکتہ اُٹھایا کہ آئی جی پولیس کا تقرر تین برس کیلئے ہوتا ہے، لیکن حکومت نے دو برس میں پانچ آئی جی پولیس تبدیل کر دیئے۔ مسلم لیگ نون کےرہنمانےاستدعاکی کہ آئی جی پولیس پنجاب کے تقرر کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دیا جائے۔ درخواست پر مزید سماعت دو ہفتوں کے بعد ہوگی۔

یاد رہے لاہور ہائیکورٹ نے سیالکوٹ موٹر وے پر خاتون سے زیادتی کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کیلئے درخواستوں پر کی سماعت کے دوران پولیس کے سینئر افسروں کو ہر ضلع میں روز رات کو گشت کرنے کا حکم دے دیا،عدالت سانحہ موٹروے زیادتی کیس میں فریقین کے وکلاء کو آئندہ سماعت پر بحث کیلئے طلب کر لیا ۔

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس محمد قاسم خان نے میاں آصف محمود اور ندیم سرور ایڈووکیٹ کی درخواستوں پر سماعت کی ۔ڈی آئی جی لیگل جواد ڈوگر رپورٹ سمیت عدالت میں پیش ہوئے ۔چیف جسٹس نے ڈی آئی جی لیگل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا مجھے بتائیں آئی جی پنجاب روزانہ کتنے گھنٹے بدل بدل کر کہاں گشت کرے گا؟ رات 11 سے 1 بجے ہر ضلع میں ایک سینئر افسر روڈ پر ہونا چاہئے، بتائیں رپورٹ میں کیا کہا ہے، کیا پلان دیا ہے۔

درخواست گزاروں کی جانب سے وفاقی حکومت، پنجاب حکومت، چیف سیکرٹری پنجاب، آئی جی پنجاب، چیئر پرسن لاہور رنگ روڈ اتھارٹی سمیت دیگر کو فریق بناتے ہوئے سانحہ موٹر وے زیادتی کیس کی تحقیقات کے لئے جوڈیشل کمیشن بنانے کا حکم دینے کی استدعا کی گئی ہے۔