سٹی42: امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مسلسل زچ کرنے والے اقدامات کے بعد روس کے صدر پیوٹن نے خفیہ معلومات امریکہ بھیج دیں جن کے سامنے آنے سے، کہا جا رہا ہے کہ، امریکہ میں زلزلے اور بھانچال آ جائیں گے۔
صدر پیوٹن کی جانب سے امریکہ کے بہت متنازعہ معاملات کے متعلق اہم خفیہ حقائق پر مبنی فائلیں لیک کرنے کے عمل سے، ماہرین بتا رہے ہیں کہ، امریکہ میں زبردست سیاسی طوفان آنے کا اندیشہ، پوتن کے خفیہ دستاویزات نے عوام کے سامنے آنے سے پہلے ہی ہلچل پیدا کر دی ہے
میڈیا رپورٹس کے مطابق روس کی خفیہ ایجنسی ’کے جی بی‘ کی جمع کی ہوائی دستاویزات میں مبینہ طور پر امریکہ کے سابق صدر جان ایف کینیڈی کے قتل سے جڑی نئی معلومات موجود ہیں۔
جان ایف کینیڈی امریکہ کے مقبول ترین صدروں میں سے ایک تھے جو صدر ہوتے ہوئے سڑک اپنی بیوی کے ساتھ کھلی کار میں ایک ریلی میں جاتے ہوئے قتل ہو گئے تھے۔ ان کے قتل کی سازش کس نے کی یہ جاننے سے امریکہ کے عوام کو نسل در نسل گہری دلچسپی رہی ہے اور جان ایف کینیڈی کے متعلق معمولی افواہیں بھی عوام کی بہت زیادہ توجہ حاصل کرتی ہیں۔
پیوٹن نے کینیڈی قتل کی معلومات امریکی افسروں اور سیاستدانوں کو دےدیں
ایک طرف امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ’ٹیرف‘ کے نام پر پوری دنیا میں ہلچل مچا رکھی ہے، اور دوسری طرف خود امریکہ میں زبردست سیاسی طوفان کا اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق روس نے امریکہ کے سابق صدر جان ایف کینیڈی کے قتل سے جڑے کچھ خفیہ دستاویزات بعض امریکی افسران کے حوالے کر دی ہیں۔ تصور کیا جا رہا ہے کہ یہ فائلیں امریکہ کی سیاسی تاریخ کو جھنجھوڑ کر رکھ سکتی ہیں، کیونکہ ان میں روس مخالف لابی سے جڑے کئی بڑے نام شامل ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
یہ خبر ایسے وقت میں سامنے آئی ہے، جب امریکی صدر ٹرمپ نے یوکرین کو ’ٹام ہاک میزائل‘ دینے کی بات کہی ہے۔ انھوں نے حال ہی میں روس سے متعلق کچھ سخت بیانات بھی دیے ہیں۔ اب پوتن کا یہ ’فائل بم‘ ٹرمپ کی سیاسی حکمت عملی کو جھٹکا دینے والا تصور کیا جا رہا ہے۔ روس کی خفیہ ایجنسی ’کے جی بی‘ سے منسلک ان دستاویزات میں مبینہ طور پر کینیڈی کے قتل سے جڑی نئی جانکاریاں موجود ہونے کا اندیشہ ہے۔ رپورٹس کے مطابق ان فائلوں میں قتل کے پیچھے کی بین الاقوامی سازش اور کچھ امریکی سیاسی چہروں کے کردار سے متعلق اشارے ملتے ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ کینیڈی کا قتل امریکہ کی سیاست میں آج بھی سب سے حساس اور پراسرار ایشوز میں شمار کیا جاتا ہے۔ 1963 میں ٹیکسان کے شہر ڈیلاس میں گولی مار کر ان کا قتل کیا گیا تھا، لیکن اصل سازش کے دھاگے آج تک پوری طرح سلجھ نہیں پائے ہیں۔
اینا پالینا لونا روس سے ملنے والی دستاویزات کو پبلک کریں گی
بہرحال، امریکی رکن پارلیمنٹ اینا پالینا لونا نے سوشل میڈیا پر ایک اہم بیان جاری کیا ہے، جس میں انھوں نے کہا ہے کہ ’’مجھے روس کے سفیر کی طرف سے جے ایف کے کی موت سے متعلق تیار رپورٹ کی ہارڈ کاپی مل گئی ہے۔ ماہرین کی ٹیم صبح میرے دفتر پہنچے گی تاکہ دستاویزات کا ترجمہ اور تفصیلی تجزیہ کیا جا سکے۔‘‘۔ انھوں نے مزید لکھا ہے کہ ’’ہم جلد ہی انھیں اپ لوڈ کریں گے۔ یہ تاریخی طور سے بہت اہم ہے۔‘‘ لونا نے روسی سفارتخانہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس رپورٹ کے ذریعہ کئی پرانے رازوں سے پردہ اٹھ سکتا ہے۔
صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران وعدہ کیا تھا کہ کینیڈی قتل کیس کی فائلوں کو پوری طرح منظر عام پر لائیں گے۔ حالانکہ بعد میں انھوں نے کئی فائلوں کو سامنے لانے کے مطالبہ کو نظر انداز کر دیا تھا۔ اس قت صدر ٹرمپ بھی امریکہ کے تمام صدروں کی طرح کینیڈی کے قتل کے معاملہ کو دبائے رکھنے کی طے شدہ پالیسی پر ہی عمل کر رہے ہیں۔
اب جبکہ روس سے نئی معلومات سامنے آئی ہیں، تو امریکہ میں سیاسی طوفان کی پوری امید ظاہر کی جا رہی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر ان فائلوں میں بڑے امریکی نام سامنے آتے ہیں تو یہ معاملہ ماحول کو پوری طرح بدل سکتا ہے۔
جان ایف کینیڈی کی زندگی اور اسیسینیشن
جان فٹزجیرالڈ کینیڈی، جنہیں JFK بھی کہا جاتا ہے، ریاستہائے متحدہ کے 35 ویں صدر تھے، جنہوں نے 1961 سے لے کر 1963 میں اپنے قتل تک خدمات انجام دیں۔
ابتدائی زندگی: کینیڈی بروکلین، میساچوسٹس میں ایک امیر، سیاسی طور پر بااثر خاندان میں پیدا ہوئے تھے۔ ہاورڈ کالج سے تعلیم حاصل کی۔
انہوں نے امریکی بحریہ میں بھی خدمات انجام دیں۔ بعدازاں ایوان نمائندگان کے رکن بنے اور 1946 سے 1952 تک اس عہدے پر رہے۔ 1952 سے 1960 تک سینیٹ کے رکن کے طور پر کام کیا۔
کینیڈی مذہباً رومن کیتھولک تھے، سیاست میں ان کا تعلق ڈیموکریٹک پارٹی سے تھا۔ 20 جنوری 1961 کو وہ صدر آئزن باور کے عہدے سے ہٹنے پر صدر بنے۔ ان کا یہ جملہ کہ ’آپ یہ نہ پوچھیں کہ ملک آپ کے لیے کیا کر سکتا ہے بلکہ سوچیں کہ آپ ملک کے لیے کیا کر سکتے ہیں‘ بہت مشہور ہوا۔‘
ان کو امریکی صدور میں سب سے زیادہ کرشماتی شخصیت کا مالک سمجھا جاتا ہے۔دوسری جنگ عظیم کے دوران، اس نے امریکی بحریہ میں خدمات انجام دیں اور اس کی گشتی ٹارپیڈو کشتی، PT-109 کو ایک جاپانی ڈسٹرائر کے ذریعے ٹکرانے کے بعد وہ جنگ کا ہیرو بن گیا۔
سیاسی کیریئر: جنگ کے بعد، اس نے سیاست میں قدم رکھا، 1960 میں صدر منتخب ہونے سے پہلے میساچوسٹس کے کانگریس مین اور سینیٹر کے طور پر خدمات انجام دیں۔
اہم واقعات: ان کی صدارت کے دورانیہ پر سرد جنگ کا غلبہ تھا۔ اس نے کیوبا میں بے آف پگز کے ناکام حملے کی نگرانی کی لیکن کیوبا کے میزائل بحران پر کامیابی کے ساتھ تشریف لے گئے، دنیا کو ایٹمی جنگ کے دہانے سے واپس لایا۔ اس نے پیس کور بھی بنایا اور امریکہ کو چاند پر انسان اتارنے کا عہد کیا۔
قتل: 22 نومبر، 1963 کو، کینیڈی کو ڈیلاس، ٹیکساس میں موٹر کیڈ میں سوار ہوتے ہوئے قتل کر دیا گیا۔ ان کی موت نے قوم کو گہرا صدمہ پہنچایا۔
قتل کا تنازعہ
وارن کمیشن کے ذریعہ قائم کردہ سرکاری کہانی نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ لی ہاروی اوسوالڈ نے کینیڈی کو قتل کرنے میں تنہا کام کیا۔ تاہم، یہ تلاش کئی دہائیوں سے متنازع رہی ہے، جس کی وجہ سے مسلسل اور متنوع سازشی نظریات سامنے آتے ہیں۔ اب روسی ڈاکیومنٹس سامنے ٓٓنے سے امید بندھی ہے کہ کینڈی کو قتل کروانے والے سازشی گروہ کا نقاب ہٹ جائےگا۔ لیکن یہ معمہ حل ہوا تو کیا ہو گا، اس کا سردست تصور نہیں کیا جا سکتا، البتہ یہ طے ہے کہ بھونچال آئے گا اور بہت کچھ اتھل پتھل ہو جائے گا۔