ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

حکومت پنجاب کا ریاستی رٹ چیلنج کرنے والوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کا فیصلہ 

حکومت پنجاب کا ریاستی رٹ چیلنج کرنے والوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کا فیصلہ 
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی 42 : تشدد ،فتنہ فساد اور خون ریزی  کی سیاست کا باب ہمیشہ کے لیے بند کرنے کے لیے پنجاب حکومت نے بڑا اعلان کردیا۔ 

پنجاب کی وزیر اعلی مریم نواز شریف کی زیر صدارت امن امان سے متعلق دوسرا غیر معمولی اجلاس ہوا۔ جس میں پنجاب حکومت نے احتجاج کے نام پر خون ریزی، شرانگیزی اور فتنہ و فساد پھیلانے والوں کے خلاف آہنی گھیرا مزید تنگ کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ اس کے علاوہ پنجاب حکومت نے عمران خان کے ایکس اکاونٹ پر 400 لاشوں والے اشتعال انگیز  جھوٹے بیان پر پیکا ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرانے کا فیصلہ بھی کرلیا۔

پنجاب حکومت نے واضح کر دیا کہ ریاست کا ہدف فساد ہے کوئی مذہبی جماعت یا عقیدہ  نہیں  کارروائیاں صرف اُن کے خلاف ہیں جو امن برباد کرنے کی تاریخ کے حامل ہیں۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ پنجاب میں مساجد کے منبروں اور مدارس کے فورمز کو نفرت،انتشار یا تشدد کے فروغ کے لیے استعمال کرنے والوں کے خلاف دہشت گردی کے مقدمات درج ہونگے۔ اس کے علاوہ مدارس کے تقدس کو مجروح کرنے اور بچوں کے ذہنوں میں نفرت یا تشدد کے بیج بونے والوں کے خلاف دہشت گردی کے قوانین کے تحت کارروائی ہوگی۔ 

پنجاب حکومت نے احتجاج کے دوران کیلوں والے ڈنڈوں ،پیٹرول بم اور ہر قسم کے اسلحہ کے استعمال پر مکمل پابندی عائد کر دی۔ پنجاب حکومت نے لاؤڈ اسپیکر قوانین کی خلاف ورزی پر بھی فوری کارروائی کا فیصلہ کرلیا۔ 

پنجاب بھر میں سیکشن 144 نافذ  عمل ہے خلاف ورزی پر دہشتگردی ایکٹ کے تحت مقدمات درج ہوں گے۔ 

پنجاب حکومت کی جانب سے انتہا پسند جتھوں کے سہولت کاروں اور حامیوں کے خلاف سخت ترین کارروائی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ بازار، دکانیں یا ٹرانسپورٹ زبردستی بند کرانے والوں پر دہشتگردی ایکٹ لاگو ہوگا۔

شوشل میڈیا پر شر انگیزی، نفرت اور فتنہ پھیلانے والوں کے لیے زیرو ٹالرنس پالیسی نافذ کردی گئی ہے۔ سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مواد پھیلانے والوں کے خلاف پیکا ایکٹ کے تحت مقدمات درج ہوں گے۔

انتہا پسند گروہوں کی ہر غیر قانونی سرگرمی پر مکمل پابندی عائد،سکیورٹی اداروں کو فوری ایکشن کے اختیارات تفویض کردیے گئے۔