ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

سوشل میڈیا پر مشورے والے ہوشیار؛ متعلقہ شعبے میں تعلیمی قابلیت ثابت کرنا لازم ورنہ بھاری جرمانہ

سوشل میڈیا پر مشورے والے ہوشیار؛ متعلقہ شعبے میں تعلیمی قابلیت ثابت کرنا لازم ورنہ بھاری جرمانہ
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک : ہمیں اکثر مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر متعدد موضوعات جیسے معیشت، صحت، قانون اور سیاست وغیرہ پر صارفین کے مشورے اور تجاویز موصول ہوتے ہیں لیکن اب ایک ایسا ملک بھی سامنے آیاجہاں سوشل میڈیا پر مشورے دینے سے قبل متعلقہ شعبے میں تعلیمی قابلیت ثابت کرنا ہوگی ورنہ بھاری جرمانہ ہوسکتا ہے ۔

یہ تمام انفلوئنسرز یا صارفین کسی شعبے میں مہارت کے بغیر اپنے مشورے شیئر کرتے ہیں۔مگر ایک ملک میں اب سوشل میڈیا صارفین کے لیے اب ایسا کرنا ممکن نہیں ہوگا۔جی ہاں واقعی چین میں ایسے صارفین یا انفلوئنسرز کے خلاف سخت قانون کا نفاذ کیا گیا ہے۔کچھ عرصے قبل اس قانون کا نفاذ کیا گیا جس کا مقصد سوشل میڈیا پر غلط معلومات پھیلنے سے روکنا ہے۔یہ قانون کسی شعبے میں مہارت نہ رکھنے والے صارفین کو اپنے خیالات شیئر کرنے سے روکتا ہے۔

آسان الفاظ میں کوئی سوشل میڈیا انفلوئنسر اس وقت تک قانون، طب، تعلیم یا فنانس پر بات نہیں کرسکے گا، جب تک وہ متعلقہ شعبے میں اپنی تعلیمی قابلیت کا ثبوت فراہم نہ کرے۔سائبر اسپیس ایڈمنسٹریشن آف چائنا (سی اے سی) کی جانب سے قانون کے حوالے سے جاری ہدایات کے مطابق صارفین کو تعلیمی قابلیت کا ثبوت جیسے ڈگری یا حکومت کا تسلیم شدہ سرٹیفکیٹ پیش کرکے کسی شعبے کے بارے میں سوشل میڈیا پر رائے دینا ہوگی۔

نئے قانون کے مطابق صرف متعلقہ ماہرین ہی سوشل میڈیا پر مشورے دے سکیں گے جبکہ خلاف ورزی کرنے پر سوشل میڈیا اکاونٹ معطل اور 14 ہزار ڈالرز تک جرمانہ ہوسکے گا۔سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو بھی انفلوئنسرز کی تعلیمی اسناد کی تصدیق کرنی ہوگی۔اس طرح چین ممکنہ طور پر دنیا کا پہلا ملک بن گیا ہے جہاں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر غلط معلومات کو پھیلنے سے روکنے کے لیے اس طرح کا قانون متعارف کرایا گیا۔