ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

لاہور ہائیکورٹ کا انشورنس کلیمز پر سود کی ادائیگی سے متعلق بڑا فیصلہ، اسٹیٹ لائف کی اپیلیں خارج

 لاہور ہائیکورٹ کا انشورنس کلیمز پر سود کی ادائیگی سے متعلق بڑا فیصلہ، اسٹیٹ لائف کی اپیلیں خارج
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ملک اشرف: لاہور ہائیکورٹ نے انشورنس کلیمز کی ادائیگی میں تاخیر پر بیواؤں اور قانونی ورثا کو سود کی ادائیگی سے متعلق اہم فیصلہ سناتے ہوئے اسٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن کی جانب سے دائر چاروں اپیلیں مسترد کر دیں۔

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس راحیل کامران نے 13 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا۔ مقدمات مسماۃ شمشاد اختر، شاہینہ بخاری، عابدہ پروین اور رخصانہ کوثر سے متعلق تھے، جن کے شوہر یا والد اسٹیٹ لائف کے ملازم یا پالیسی ہولڈرز تھے اور 1997 سے 1999 کے دوران انتقال کر گئے تھے۔

فیصلے کے مطابق اسٹیٹ لائف نے ابتدائی طور پر گروپ انشورنس کلیمز مسترد کر دیے تھے، جس پر متاثرہ خاندانوں نے وفاقی محتسب اور دیگر فورمز سے رجوع کیا۔ طویل قانونی کارروائی کے بعد اصل رقم تو ادا کر دی گئی، تاہم کمپنی نے تاخیر پر سود ادا کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

ٹرائل کورٹ نے انشورنس ایکٹ 1938 کے سیکشن 47B کے تحت مروجہ بینک ریٹ سے 5 فیصد اضافی شرح پر سود ادا کرنے کا حکم دیا تھا، جسے اسٹیٹ لائف نے لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا۔

اسٹیٹ لائف کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ وفاقی شرعی عدالت اور سپریم کورٹ کے شریعت اپیلیٹ بینچ کے فیصلوں کے بعد سود سے متعلق دفعات غیر مؤثر ہو چکی ہیں، تاہم عدالت نے یہ مؤقف مسترد کر دیا۔

عدالت نے قرار دیا کہ سپریم کورٹ کے شریعت اپیلیٹ بینچ نے 2002 میں اپنے سابقہ فیصلے کالعدم قرار دے کر معاملہ دوبارہ وفاقی شرعی عدالت کو بھجوا دیا تھا، جبکہ حالیہ فیصلے کے نفاذ کے لیے 31 دسمبر 2027 تک مہلت دی گئی ہے، لہٰذا موجودہ مقدمات پر پرانا قانون لاگو ہوگا۔

عدالت نے مزید قرار دیا کہ جنرل کلازز ایکٹ 1897 کے تحت کسی قانون کی منسوخی یا تبدیلی سے ماضی میں حاصل شدہ قانونی حقوق متاثر نہیں ہوتے۔

فیصلے میں کہا گیا کہ اگر انشورنس کمپنی 90 روز کے اندر کلیم ادا نہ کرے تو وہ تاخیر پر سود ادا کرنے کی پابند ہوگی۔ عدالت نے قرار دیا کہ صارفین، بیواؤں اور قانونی ورثا کو مالی تحفظ فراہم کرنا قانون کا بنیادی مقصد ہے۔

لاہور ہائیکورٹ نے ٹرائل کورٹ کے فیصلوں کو برقرار رکھتے ہوئے اسٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن کی تمام اپیلیں خارج کر دیں۔