ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

قیدیوں کے تبادلہ کا لمحہ آ گیا

City42,, Istanbul session, Ukraine Russia war, Russian president Putin, President Zalenski
کیپشن: استنبول میں آج ہوئی یوکرین روس براہ راست میٹنگ اپنی نوعیت کی پہلی میٹنگ ہے، اس سے جنگ بندی تو نہین ہوئی لیکن براہ راست مذاکرات آگے بڑھنے کا راستہ کھل گیا۔ ترک وزیر خارجہ نے اس دو گھنٹے کی میٹنگ کے ابتدائی کلمات کہے۔
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42:  جنگ جاری ہے لیکن دونوں متحارب ملک ایک دوسرے کے جنگی قیدی رہا کرنے پر متفق ہو گئے ہیں۔ 

ترکیہ کے شہر استنبول میں روس اور یوکرین کے درمیان مذاکرات مین بڑٓ بریک تھرو ہوا ہے۔  ماسکو کے اہلکار کے مطابق، روس اور یوکرین ہر ایک  ملک دوسرے کے  1,000 جنگی قیدیوں کو واپس کرنے پر متفق ہیں۔

استنبول میں روس اور یوکرین نے جمعے کو 1000 جنگی قیدیوں کے تبادلے پر اتفاق کر لیا ہے، یہ بات روس کے وفد کے سربراہ ولادیمیر میدنسکی نے  امن مذاکرات ختم ہونے کے بعد کہی ہے۔

امریکہ کے بغیر روس یوکرین مذاکرات

روس اور یوکرین کے درمیان جنگ بندی کی بات امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کی تھی، وہ جنگ بندی اب تک نہیں ہو سکی  لیکن گزشتہ تین ماہ کے وران ہونے والی پیچیدہ ڈیویلپمنٹس کے نتیجہ میں قیدیوں کی رہائی کی اہم پیش رفت نیوٹرل ملک  ترکیہ کے یورپی شہر استنبول میں ہوئی اور امریکہ اس  پیش رفت میں شریک نہیں۔

استنبول میں، ترک وزیر دفاع رستم عمروف کی قیادت میں یوکرین کا ایک وفد  روس کے صدر کے معاون ولادیمیر میدنسکی کی سربراہی میں ایک نچلی سطح کی روسی ٹیم کے سامنے بیٹھا تھا، یوکرین کی وزارت خارجہ کے ترجمان ہیورہی تیکھی نے اس ملاقات کی تصویر شائع کی۔

ترکی کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے سیشن کا آغاز کیا تھا، انہوں نے  فریقین پر زور دیا کہ وہ "اس موقع سے فائدہ اٹھائیں" اور مزید کہا کہ "یہ انتہائی اہم ہے کہ جنگ بندی جلد از جلد ہو۔"

Caption روس کے صدر کے  معاون میدنسکی  استنبول میں آج ہوئی یوکرین روس میٹنگ مین روسی وفد کی قیادت کر رہے تھے۔  انہوں نے مستقبل مین صدر پوتن اور صدر زیلنسکی کی براہ راست ملاقات کے امکان کا بھی اشارہ دیا۔

بات چیت سے پہلے کی سفارتکاری
امریکی نیوز ایجنسی نے اس اہم پیش رفت کے پس منظر پر اپنی رپورٹ میں لکھا، "دونوں ملک اس ہفتے سفارتی ہتھکنڈوں میں مصروف تھے جب انہوں نے ٹرمپ کو یہ دکھانے کی کوشش کی کہ وہ مذاکرات کے خواہشمند ہیں، حالانکہ انہوں نے سست پیش رفت پر مایوسی کا اظہار کیا ہے اور پاؤں گھسیٹنے کی سزا دینے کی دھمکی دی ہے۔"

جنگی قیدیوں کا سب سے بڑا ایکسچینج، جنگ بندی کیلئے تفصیلی تجاویز لانے پر اتفاق

 روس اور یوکرین کے  جنگی قیدیوں کا  تبادلہ 2022 میں جنگ کے آغاز کے بعد سے ان کا سب سے بڑا   پریزنرز آف وار کا  ایکسچینج ہوگا۔

روس کے سینئیر نمائندہ ولادیمیر میدنسکی نے یہ بھی کہا کہ ماسکو اور کیف نے ایک دوسرے کو جنگ بندی کے لیے تفصیلی تجاویز فراہم کرنے پر اتفاق کیا۔

دو گھنٹے کے اس سیشن کے دوران یہ دکھائی دیا کہ جنگ بندی پر بات آگے بڑھنے میں آج کم ہی پیش رفت ہو سکے گی۔ دونوں فریق یو کے سائز کی میز پر بیٹھے لیکن جنگ کے خاتمے کے لیے اپنی شرائط میں بہت دور رہے۔ تاہم یہ بڑی پیش رفت ہو گئی  کہ دونوں ملک ایک دوسرے کے ایک ایک ہزار جنگی قیدی چھوڑ دیں گے، یہ بھی اہم پیش رفت ہے کہ دونوں ملک جنگ بندی کے لئے ٹھوس تحریری تجویزیں لانے پر متفق ہو گئے جو آئندہ بات چیت کی بنیاد بنیں گی۔

زیلنسکی اور پوتن کی ملاقات کی تجویز پر دوبارہ غور

یوکرین نے سربراہان مملکت کے درمیان ملاقات کی درخواست کی اور روس اسے زیر غور لائے گا۔ صدر پوتن کے معاون نے ان مذاکرات میں کہا،  روس صدروں کی ملاقات پر سنجیدگی سے گور کرے گا،   میدنسکی نے کہا کہ روس مذاکرات جاری رکھنے کے لیے تیار ہے۔

اس سے پہلے کل جمعرات کے روز روس نے صدر پوتن کی صدر زیلنسکی کے ساتھ ملاقات کی تجویز کو آؤٹ رائیٹلی مسترد کر دیا تھا۔ جمعرات کو صدر  پوتن نے ترکی میں آمنے سامنے ملاقات کے لیے یوکرین کے رہنما وولوڈیمیر زیلنسکی کی پیشکش کو ٹھکرا دیا تھا۔ زیلنسکی نے ماسکو پر الزام عائد کیا کہ اس نے کم سطحی وفد بھیج کر جنگ کے خاتمے کی سنجیدہ کوشش نہیں کی۔

اس  اعلان سے پہلے کیا ہوا

استنبول میں ماسکو کے 2022 کے حملے کے ابتدائی ہفتوں کے بعد سے روس اور یوکرین کے درمیان پہلی براہ راست امن بات چیت جمعہ کو دو گھنٹے سے بھی کم وقت میں ختم ہو گئی۔

بات چیت شروع ہونے سے پہلے، یوکرینی حکام نے امریکہ، فرانس، جرمنی اور برطانیہ کے قومی سلامتی کے مشیروں سے ملاقاتیں کیں تاکہ پوزیشنوں کو مربوط کیا جا سکے، یوکرین کے ایک سینئر اہلکار نے حساس معاملات پر بات کرنے کے لیے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اے پی کو بتایا۔

عہدیدار نے بتایا کہ امریکی ٹیم کی قیادت یوکرین اور روس کے لیے ٹرمپ کے خصوصی ایلچی ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل کیتھ کیلوگ کر رہے تھے، جبکہ عمروف اور صدارتی دفتر کے سربراہ آندری یرمک نے یوکرین کی نمائندگی کی۔


ترک وزارت خارجہ کے حکام نے بتایا کہ ترکی، امریکہ اور یوکرین کے درمیان سہ فریقی اجلاس بھی ہوا۔ امریکی فریق میں سکریٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو کے ساتھ ساتھ کیلوگ بھی شامل تھے۔

جمعرات کو، روبیو نے کہا کہ روس-یوکرین مذاکرات میں "ہمیں زیادہ توقعات نہیں ہیں کہ کیا ہوگا"۔

انھوں نے کہا کہ انھیں یقین ہے کہ ٹرمپ اور پوٹن کے درمیان ملاقات ممکن ہے۔

ان مذاکرات میں کیف نے کریملن پر الزام لگایا کہ وہ یوکرین کی افواج کو وسیع علاقے سے نکالنے کے لیے نئے "ناقابل قبول مطالبات" متعارف کروا رہا ہے۔   یوکرائنی فریق نے اس بات کا اعادہ کیا کہ وہ حقیقی پیش رفت کے حصول پر اپنی توجہ مرکوز رکھے ہوئے ہے - ایک فوری جنگ بندی اور ٹھوس سفارت کاری کا راستہ، جیسا کہ امریکہ، یورپی شراکت داروں اور دیگر ممالک نے تجویز کیا ہے۔

یوکرین کے صدر زیلنسکی، اس دوران، ترانہ، البانیہ میں تھے، 47 یورپی ممالک کے رہنماؤں کے ساتھ ملاقات کے لیے جنگ کے پس منظر میں سلامتی، دفاع اور جمہوری معیارات پر بات چیت کے لیے۔

زیلنسکی نے کہا، "اگر آج استنبول میں روسی نمائندے اس بات پر بھی متفق نہیں ہو سکتے ہیں، (a) جنگ بندی کے لیے، اس واضح طور پر ضروری پہلے قدم پر، تو یہ 100 فیصد واضح ہو جائے گا کہ پوٹن سفارت کاری کو کمزور کر رہا ہے۔" "اگر ایسا نہیں ہے تو، جنگ بندی کے ساتھ شروع کرتے ہوئے، آج کم از کم کوئی نتیجہ نکلنا چاہیے۔"

Caption جمعہ کے روز البانیہ کے شہر ترانا مین ایک اہم پلینری میٹنگ ہوئی، اس میٹنگ میں  47 یورپی ممالک اور اداروں کی سمٹ کی تیاری کی گئی، سمٹ مین ڈیفینس اور جمہوریت کے سٹینڈردز پر اہم مذاکرات ہوں گے۔ اس تصویر مین ترکی کے صدر رجب طیب اردوان انگلینڈ کے پرائم منسٹر سٹارمر کے ساتھ بات کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ ترکی کی یوری یونین کی سرگرمیوں  مین اہمیت برھنا حالیہ مہینوں کی اہم ترین سٹریٹیجک اہمیت کی ڈیویلپمنٹ ہے 

اس دوران ٹرمپ نے کیا کہا

 امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ، جنہوں نے تنازعہ کے خاتمے کے لیے ماسکو اور کیف دونوں پر دباؤ ڈاللنے کی ابتدا کی تھی، اتنبول مین ہو رہی بات چیت کے متعلق کہاہے کہ ان کی اور روسی صدر ولادیمیر پوٹن کے درمیان ملاقات "جیسے ہی ہم اسے ممکن بناسکے" ہو گی۔

ٹرمپ نے ابوظہبی میں مشرق وسطیٰ کے دورے کے اختتام پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا، ’’میرے خیال میں اب وقت آگیا ہے کہ ہم یہ (ملاقات) کر لیں۔‘‘

یوکرین تیس روزہ جنگ بندی پر آمادہ

یاس سے پہلے کی ڈیویلپمنٹ میں یہ سامنے آیا تھا کہ وکرین نے 30 دن کی مکمل جنگ بندی کی امریکی اور یورپی تجویز کو قبول کر لیا ہے لیکن صدر پوتن نے دور رس شرائط عائد کر کے اسے مؤثر طریقے سے مسترد کر دیا۔

ٹرمپ پوتن ملاقات کب ہو پائے گی

ٹرمپ اور پوتن کی ممکنہ ملاقات پر تبصرہ کرتے ہوئے، کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف اس بات کی نشاندہی کرتے دکھائی دیے کہ اس طرح کی سربراہی ملاقات کی ضرورت بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ اعلیٰ سطحی بات چیت کی "یقینی طور پر ضرورت ہے" لیکن مزید کہا کہ اس  سربراہی اجلاس کی تیاری میں وقت لگے گا۔

اس دوران جنگ جاری ہے

جمعہ کو جب استنبول میں یوکرین اور روس کے نمائندوں مین مذاکرات ہو رہے تھے تب بھی جنگ جاری تھی۔ اس جنگ کے متعلق امریکہ کی نیوز ایجنسی نے کہا،  یوکرین کی حکومت اور مغربی عسکری تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس دوران روسی افواج ایک نئے فوجی حملے کی تیاری کر رہی ہیں۔

یوکرین میں خارکیو کی علاقائی ملٹری ایڈمنسٹریشن کے سربراہ اولیہ سینی ہوبوف نے بتایا کہ جمعہ کی صبح شمال مشرقی یوکرین کے شہر کپیانسک پر ڈرون حملے میں ایک 55 سالہ خاتون ہلاک اور چار افراد زخمی ہوئے۔ تمام متاثرین میونسپل یوٹیلیٹی کے لیے کام کرتے تھے۔

اقوام متحدہ کے اعدادوشمار کے مطابق روس کے حملے میں 12,000 سے زیادہ یوکرینی شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔حکام اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ دسیوں ہزار یوکرینی فوجی بھی ہلاک ہو چکے ہیں، اور یہ ممکنہ طور پر روسی فوجیوں کی ایک بڑی تعداد ہے۔

میدانِ جنگ میں، ایک یوکرائنی فوجی نے کہا کہ اسے امید نہیں ہے کہ بات چیت سے جنگ کا تیزی سے خاتمہ ہو جائے گا۔

"مجھے نہیں لگتا کہ وہ کسی ٹھوس بات پر متفق ہوں گے، کیونکہ موسم گرما جنگ کا بہترین وقت ہے،"  "دشمن حالات کو مسلسل خراب کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔" لیکن انہوں نے اے پی کو بتایا کہ ان کے بہت سے ساتھیوں کا "یقین ہے کہ سال کے آخر تک امن ہو جائے گا، اگرچہ ایک غیر مستحکم، لیکن امن ہو گا۔"