سٹی42: کولمبیا یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے والی بھارتی طالبہ رنجنی سری نیواسن نے فلسطین اور حماس کی حمایت میں" امریکا کو احتجاجاً چھوڑ دیا۔"
کولمبیا یونیورسٹی میں ایک ہندوستانی سٹوڈنٹ، جس کا ویزا "تشدد اور دہشت گردی کی وکالت" اور حماس کی حمایت کرنے جیسی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کی وجہ سے منسوخ کر دیا گیا تھا، اس نے خود کو "جلاوطن" کر lیا ہے اور اپنے وطن انڈیا واپس چلی گئی ہے۔
رنجانی سری نواسن، ایک انڈین شہری، کولمبیا یونیورسٹی میں اربن ٹاؤن پلاننگ میں ڈاکٹریٹ کی طالبہ کے طور پر F-1 اسٹوڈنٹ ویزا پر امریکہ میں داخل ہوئی تھی، محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی نے جمعہ کو ایک بیان میں کہا۔ اس میں مزید کہا گیا کہ سری نواسن ایک دہشت گرد تنظیم حماس کی حمایت کرنے والی سرگرمیوں میں ملوث تھی۔
بھارتی میڈیا کے مطابق کولمبیا یونی ورسٹی کی طالبہ رنجنی سری نیواسن نے اسرائیل کے خلاف اور حماس کی حمایت میں مظاہروں میں شرکت کی تھی۔
ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت نے شہری منصوبہ بندی کی ڈاکٹریٹ کی طالبہ رنجنی سری نیواسن کا ویزا معطل کردیا تھا۔
ٹرمپ حکومت کی انتظامیہ کا خیال تھا کہ طالبہ معافی تلافی کرکے اپنا ویزا بحال کروالیں گی تاکہ اپنی تعلیم مکمل کرسکیں۔ تاہم بھارتی طالبہ نے اپنا ویزا بحال کرانے کی کوشش نہیں کی۔
رنجنی سری نیواسن نے کسٹمز اور بارڈر پروٹیکشن ایجنسی (CPB) کی ایپ کے ذریعے خود کو بے دخل کر لیا۔
امریکی قانون کے تحت خود بے دخلی کا مطلب ہے کہ فرد حکام کے اقدام سے پہلے خود ہی ملک چھوڑ دیتا ہے۔