ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

بھارتی طالبہ نے احتجاجاً امریکا چھوڑ دیا

بھارتی طالبہ نے احتجاجاً امریکا چھوڑ دیا
کیپشن: ویزا ری ووک ہونے کے بعد کولمبیا یونیورسٹی کی سٹوڈنٹ انڈیا واپس چلی گئیں۔ انہیں کولمبیا یونی ورسٹی میں دہشتگردی کی ھمایت کرنے کے الزامات کا سامنا تھا۔ وہ ان سٹوڈنٹس میں شامل تھیں جنہوں نے حماس کی سرگرم حمایت کی اور مسلسل بہت دنوں تک یونیورسٹی مین سخت احتجاج کیا تھا۔
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42:  کولمبیا یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے والی بھارتی طالبہ رنجنی سری نیواسن نے فلسطین اور حماس کی حمایت میں" امریکا کو احتجاجاً چھوڑ دیا۔"

 کولمبیا یونیورسٹی میں ایک ہندوستانی سٹوڈنٹ، جس کا ویزا "تشدد اور دہشت گردی کی وکالت" اور حماس کی حمایت کرنے جیسی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کی وجہ سے منسوخ کر دیا گیا تھا، اس نے خود کو "جلاوطن"  کر lیا ہے اور اپنے وطن انڈیا واپس چلی گئی ہے۔

 رنجانی سری نواسن، ایک انڈین  شہری، کولمبیا یونیورسٹی میں  اربن ٹاؤن پلاننگ میں ڈاکٹریٹ کی طالبہ کے طور پر F-1 اسٹوڈنٹ ویزا پر امریکہ میں داخل ہوئی تھی، محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی نے جمعہ کو ایک بیان میں کہا۔ اس میں مزید کہا گیا کہ سری نواسن ایک دہشت گرد تنظیم حماس کی حمایت کرنے والی سرگرمیوں میں ملوث تھی۔

 بھارتی میڈیا کے مطابق کولمبیا یونی ورسٹی کی طالبہ رنجنی سری نیواسن نے اسرائیل کے خلاف اور حماس کی حمایت میں مظاہروں میں شرکت کی تھی۔

 ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت نے شہری منصوبہ بندی کی ڈاکٹریٹ کی طالبہ رنجنی سری نیواسن کا ویزا معطل کردیا تھا۔

 ٹرمپ حکومت کی انتظامیہ کا خیال تھا کہ طالبہ معافی تلافی کرکے اپنا ویزا بحال کروالیں گی تاکہ اپنی تعلیم مکمل کرسکیں۔  تاہم بھارتی طالبہ نے اپنا ویزا بحال کرانے کی کوشش نہیں کی۔

رنجنی سری نیواسن نے کسٹمز اور بارڈر پروٹیکشن ایجنسی (CPB) کی ایپ کے ذریعے خود کو بے دخل کر لیا۔

 امریکی قانون کے تحت خود بے دخلی کا مطلب ہے کہ فرد حکام کے اقدام سے پہلے خود ہی ملک چھوڑ دیتا ہے۔