شہریوں کی زندگیوں میں اندھیرے لانے کا منصوبہ شروع

(شاہد ندیم)لاہور کے شہریوں کی زندگیوں میں اندھیرے لانے والا منصوبہ تیار کرلیا گیا، لیسکو سے راوی کنارے بننے والے نئے شہر  کے لئےتین ہزار

میگاواٹ بجلی مانگ لی گئی، لیسکو کا سسٹم چار ہزار میگاواٹ سے زائد لوڈ پر نہیں چل سکتا،اضافی لوڈ آنے پر شہر کو بجلی نہیں دی جا سکےگی،پنجاب حکومت نے پراجیکٹ پر کام شروع کردیا۔

 پنجاب حکومت نے شہریوں کی زندگیوں میں اندھیرے لانے والے میگا پراجیکٹ پر کام شروع کردیا، اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے لیسکو

کو تین ہزار میگاواٹ بجلی دینے کی ڈیمانڈ کردی، لیسکو کا ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن سسٹم چار ہزار میگاواٹ سے زائد لوڈ پر چل ہی نہیں سکتا۔ منصوبے میں بجلی فراہمی پر تہلکہ خیز انکشاف سامنے آ گئے ہیں۔

اربن لاہور پراجیکٹ کو لاہور کی بجلی سے روشن بنایا جائےگا، سٹی فورٹی ٹو نے دستاویزات حاصل کر لی ہیں، راوی کنارے بننے والے نئے شہر کے لیے تین ہزار میگاواٹ بجلی کی ڈیمانڈ لیسکو کو موصول ہوئی ہے، جبکہ لیسکو کا سسٹم چار ہزار میگاواٹ تک بجلی چلا سکتا ہے،ذرائع نے بتایا کہ تین ہزار میگاواٹ اضافی لوڈ آنے پر شہر کو بجلی نہیں دی جا سکے گی،نئے شہر میں نو بڑے گرڈ سٹیشنز کا ابتدائی پلان اور نقشہ فراہم کردیا گیا ہے۔

نئے شہر میں جدید ٹیکنالوجی سے مزین گرڈ سٹیشنز کا قیام عمل میں لایا جائے گا، لیسکو حکام نے منصوبے کی فزیبیلٹی رپورٹ بنانے کے کام کا آغاز کردیا،نئے شہر کو لاہور شہر کی بجلی ہی فراہم کی جائے گی، منصوبے میں گرڈ سٹیشنز کا نقشہ بھی جاری کیا گیا ہے، متبادل نظام فراہم نہ کیا تو لاہور کا بیشتر حصہ اندھیرے میں ڈوبا رہے گا، لیسکو حکام نے نئے شہر کو بجلی کی فراہمی کے حوالے سے سرجوڑ لیے ہیں۔

حکومت راوی اربن پراجیکٹ کو جلد از جلد تعمیر کرنا چاہتی ہے تاہم منصوبے کے لیے تاحال بجلی کا متبادل نطام اور فراہمی کا منصوبہ ہی نہیں بنا۔