ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

انٹارکٹیکا میں گرمی کا نیا ریکارڈ۔۔سائنسدان تشویش میں مبتلا

انٹارکٹیکا میں گرمی کا نیا ریکارڈ۔۔سائنسدان تشویش میں مبتلا
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک)دنیا کا انتہائی جنوبی براعظم انٹارکٹیکا کے جزیرہ نما علاقے میں شدید اور غیر معمولی گرمی کی لہر نے سائنسدانوں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔6 جون کو ارجنٹائن کے ایسپرانزا ریسرچ اسٹیشن پر درجہ حرارت15.4ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا، جو جون کے مہینے کا نیا ریکارڈ ہے اور معمول سے تقریباً 20 ڈگری زیادہ ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ واقعہ موسمیاتی تبدیلی، سمندری برف میں غیر معمولی کمی اور عالمی حدت کے بڑھتے اثرات کی نشاندہی کرتا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق انٹارکٹیکا جو دنیا کا سرد ترین براعظم سمجھا جاتا ہے، ان دنوں غیر معمولی گرمی کی لہر کی زد میں ہے۔ سائنسدانوں نے6 جون کو جزیرہ نما انٹارکٹیکا کے شمالی حصے میں واقع ارجنٹائن کے ایسپرانزا بیس پر 15.4؍ ڈگری سیلسیس درجہ حرارت ریکارڈ کیا، جو جون کے مہینے کے لیے اب تک کا سب سے زیادہ درجہ حرارت ہے۔ یہ درجہ حرارت1998میں قائم ہونے والے13.4 ڈگری سیلسیس کے سابقہ ریکارڈ سے تقریب2ڈگری زیادہ ہے۔ یونیورسٹی آف گروننگن کے موسمیاتی ماہر راول کورڈیرو نے اس صورتحال کو انتہائی غیر معمولی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’’یہ سال کے اس وقت کیلئے معمول سے تقریباً 20ڈگری سیلسیس زیادہ ہے، جو ایک بہت بڑی موسمی بے ضابطگی ہےدنیا کا انتہائی جنوبی براعظم ہے‘‘۔ ان کے مطابق انٹارکٹیکا میں موسم سرما کے دوران اس نوعیت کی گرمی انتہائی تشویشناک ہے۔ 

رپورٹوں کے مطابق انٹارکٹک جزیرہ نما میں مسلسل تین ہفتوں تک درجہ حرارت نقطۂ انجماد سے اوپر رہا۔ اس دوران شمال کی جانب سے آنے والی غیر معمولی گرم ہواؤں نے وسیع علاقے کو متاثر کیا۔ چلی کے ایک موسمیاتی اسٹیشن پر بھی درجہ حرارت تقریباً ۱۳؍ ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا، جبکہ کئی دیگر تحقیقی مراکز میں بھی معمول سے کہیں زیادہ گرمی دیکھی گئی۔ کنگ جارج آئی لینڈ پر تعینات چلی کے گلیشیالوجسٹ لوئس میونوز نے بتایا کہ گرمی اس قدر شدید تھی کہ عام طور پر برف سے ڈھکے رہنے والے علاقے بھی پگھل گئے۔ ان کے مطابق اس موسم میں عموماً تقریباً ۲۰؍  سینٹی میٹر برف موجود ہوتی ہے، لیکن حالیہ دنوں میں بارش اور بلند درجہ حرارت نے برفانی سطحوں کو متاثر کیا۔ انہوں نے کہا کہ کولنز گلیشیئر کی بلندی پر بھی برف پگھلنے کے واضح آثار دیکھے گئے، حالانکہ اس وقت گلیشیئر کو برف جمع کرنی چاہیے تھی۔ 

ماہرین ماحولیات  کا کہنا ہے کہ یہ گرمی کی لہر ایسے وقت میں آئی ہے جب انٹارکٹیکا کے مغربی ساحل کے قریب سمندری برف میں بھی غیر معمولی کمی دیکھی جا رہی ہے۔ حالیہ سیٹیلائٹ مشاہدات کے مطابق بیلنگس ہاؤزن سمندر میں فرانس کے رقبے کے برابر تقریباً 6 لاکھ 50ہزار مربع کلومیٹر سمندری برف غائب ہو چکی ہے، جو اس خطے کے ماحولیاتی نظام اور گلیشیئرز کے لیے خطرے کی گھنٹی سمجھی جا رہی ہے۔ سائنسدانوں کے مطابق سمندری برف کی کمی نہ صرف پینگوئن، سیل اور دیگر قطبی حیات کے لیے خطرناک ہے بلکہ یہ بڑے گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے کا سبب بھی بن سکتی ہے۔ خاص طور پر مغربی انٹارکٹیکا کے مشہور تھوائٹس گلیشیئر، جسے ’’ڈومس ڈے گلیشیئر‘‘ بھی کہا جاتا ہے، کے بارے میں خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس کی برفانی ڈھال مستقبل قریب میں مزید کمزور ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں عالمی سمندری سطح میں نمایاں اضافہ ممکن ہے۔

موسمیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ اس گرمی کی لہر میں قدرتی موسمی عوامل بھی شامل ہیں، تاہم انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی عالمی حدت اس طرح کے واقعات کو زیادہ شدید اور بار بار ہونے والا بنا رہی ہے۔ ان کے مطابق انٹارکٹکا میں بڑھتی ہوئی گرمی اور برف کے تیزی سے پگھلنے کے رجحانات اس بات کا اشارہ ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات اب دنیا کے سب سے سرد خطوں تک بھی پہنچ چکے ہیں۔ 
وکیپیڈیا کے مطابق  انٹارکٹیکا دنیا کا انتہائی جنوبی براعظم ہے، جہاں قطب جنوبی واقع ہے۔ جغرافیائی اصطلاح میں اسے منطقہ منجمد جنوبی (South friged zone) بھی کہتے ہیں۔ یہ دنیا کا سرد ترین، خشک ترین اور ہوا دار ترین براعظم ہے، جبکہ اسکی اوسط بلندی بھی تمام براعظموں سے زیادہ ہے۔ 14٫425 ملین مربع کلومیٹر کے ساتھ انٹارکٹیکا ایشیا، افریقا، شمالی امریکا اور جنوبی امریکاکے بعد دنیا کا پانچواں بڑا براعظم ہے۔ انٹارکٹیکا 98 فیصد برف سے ڈھکا ہوا ہے جس کے باعث وہاں کوئی باقاعدہ و مستقل انسانی بستی نہیں۔ صرف سائنسی مقاصد کیلئے وہاں مختلف ممالک کے سائنس دان قیام پزیر ہیں۔وہاں تقریباً 2 ملین سالوں سے بارش نہیں ہوئی ہے، اس کے باوجود دنیا کے میٹھے پانی کے 80 فیصد ذخائر وہاں موجود ہیں، اگر یہ سب پگھل جاتے تو سمندری سطح کو ساٹھ میٹر (200 فٹ) تک بڑھا سکتے ہیں۔اس براعظم کو پہلی بار روسی جہاز راں میخائل لیزاریف اور فابیان گوٹلیب وون بیلنگشاسن نے 1820ء میں دیکھا۔1959ء میں 12 ممالک کے درمیان میں معاہدہ انٹارکٹک پر دستخط ہوئے، جس کی بدولت یہاں عسکری سرگرمیاں اور معدنیاتی کان کنی کرنے پر پابندی عائد کی گئی اور سائنسی تحقیق اور براعظم کی ماحولیات کی حفاظت کے کاموں کی حوصلہ افزائی کی گئی۔