سٹی 42 : پنجاب حکومت نے وائلڈ لائف کے لیے 10 ارب روپے کا بجٹ مختص کر دیا۔
وائلڈ لائف کی جاری اسکیموں کے لیے 84.004 ملین کیپٹل اور 9,890.996 ملین ریونیو مختص کیے گئے ہیں، جبکہ نئی اسکیموں کے لیے 12.5 ملین کیپٹل اور 12.5 ملین ریونیو مختص کیے گئے ہیں۔ 2025-26 میں کل وائلڈ لائف بجٹ 10,000.000 ملین روپے ہے، وائلڈ لائف بجٹ میں گزشتہ سال کی نسبت 10 فیصد اضافہ کیا گیا، جس میں پنجاب کے نیشنل پارکس میں انفراسٹرکچر بہتری کے منصوبے شامل کیے گئے ہیں۔ اسکے علاوہ وائلڈ لائف ریسکیو اسٹیشنز کی اپ گریڈیشن کے لیے فنڈز منظور کیے گئے۔
صوبائی وزیر خزانہ میاں مجتبٰی شجاع الرحمن نے بجٹ تقریر کے دوران کہا کہ چولستان اور تھل ریجن میں نئے وائلڈ لائف مراکز قائم ہوں گے۔نایاب نسلوں کے تحفظ کے لیے الگ اسکیم مختص کی گئی۔ وائلڈ لائف میں ڈیجیٹل مانیٹرنگ سسٹم متعارف کرایا جائے گا۔
نئی اسکیمیں اور ترقیاتی پروگرام
محکمہ وائلڈ لائف میں دو نئی اسکیمیں شروع کی جا رہی ہیں، نئی اسکیموں پر 25 ملین روپے خرچ ہوں گے۔ نایاب جانوروں کی افزائش نسل کی اسکیم کو بجٹ میں ترجیح دی گئی۔ وائلڈ لائف ایجوکیشن پروگرام کے لیے بھی بجٹ مختص کرلیا گیا، جنگلات اور وائلڈ لائف کے اشتراک سے ماحولیاتی منصوبے تیار کیے گئے ہیں۔
علاوہ ازیں شہری علاقوں میں چھوٹے وائلڈ لائف پارک بنانے کی تجویز پیش کی گئی ۔ ہر ضلع میں وائلڈ لائف موبائل یونٹس متعارف کرائے جائیں گے۔ نئی اسکیموں میں عوامی آگاہی مہم شامل ہے، طالبعلموں کے لیے وائلڈ لائف سمر کیمپ شروع کیے جائیں گے۔
وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ کے ملازمین کی تربیت پر بھی بجٹ مختص کردیا گیا ۔
ماحولیاتی تحفظ اور نایاب نسلیں
وائلڈ لائف قوانین پر عملدرآمد کے لیے فنڈز مختص کرلیے گئے۔ ہرن، چنکارہ اور اڑیال جیسے نایاب جانوروں کی حفاظت کو ترجیح دی جائے گی، غیرقانونی شکار کی روک تھام کے لیے سخت مانیٹرنگ پلان بنایا جائے گا۔
محکمہ وائلڈ لائف میں GPS ٹریکنگ سسٹم کی تنصیب، وائلڈ لائف پارکس میں سہولیات کی بہتری پر توجہ، اور ماحولیاتی تبدیلیوں سے بچاؤ کے لیے وائلڈ لائف کردار ادا کرے گا۔
نایاب پرندوں کی افزائش نسل کے منصوبے منظور کرلیے گئے ہیں۔ ماحولیاتی ماڈلز کے مطابق وائلڈ لائف پالیسی اپڈیٹ ہوگی۔ جنگلی جانوروں کے ڈیٹا بیس کے لیے ڈیجیٹلائزیشن منصوبہ، ساتھ ہی عوامی سطح پر ماحولیاتی آگاہی کے لیے وائلڈ لائف سیمینارز ہوں گے۔
انتظامی امور اور نگرانی
وائلڈ لائف گارڈز کی تعداد میں اضافہ کیا جائے گا، تمام وائلڈ لائف مراکز میں سی سی ٹی وی کیمرے نصب کیے جائیں گے، ڈسٹرکٹ سطح پر وائلڈ لائف دفاتر کو اپگریڈ کیا جائے گا۔ سٹاف کی استعداد کار بڑھانے کے لیے ٹریننگ سینٹرز بنیں گے۔ وائلڈ لائف قانون کی خلاف ورزی پر جرمانے سخت ہوں گے۔
چارجڈ وزٹ سسٹم سے وائلڈ لائف آمدنی بڑھانے کا پلان، جبکہ نئی گاڑیاں اور آلات خریدنے کے لیے الگ اسکیم شامل کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے ضلعی مانیٹرنگ کمیٹیاں قائم، وائلڈ لائف انسپکٹرز کے لیے موبائل ایپلیکیشن متعارف کردی گئی ۔شکاریوں کے خلاف کریک ڈاؤن کے لیے خفیہ سرویلنس اسکیم بھی متعارف کردی گئی ۔
مستقبل کی ترجیحات
2026-27 کے لیے وائلڈ لائف کا بجٹ 11 ارب روپے تک بڑھانے کی تجویز پیش کی گئی ہے، 2027-28 میں وائلڈ لائف بجٹ 12.1 ارب روپے تک جا پہنچے گا۔
وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ پر غور کیا جارہا ہے۔ تعلیمی اداروں کے ساتھ وائلڈ لائف ریسرچ پروگرامز کا آغاز کیا جائے گا۔
نئے وائلڈ لائف قوانین کی تیاری کے لیے پالیسی بورڈ قائم کیے جائیں گے۔ شہری علاقوں میں پرندوں کے تحفظ کے لیے الگ فنڈ، اورجنگلی حیات پر ڈاکیومنٹری فلموں کی تیاری کے لیے اسکیم، جبکہ وائلڈ لائف ایپ لانچ کی جائے گی تاکہ شکایات درج کی جا سکیں۔
وائلڈ لائف اور ماحولیاتی تبدیلی پر سالانہ رپورٹ جاری کی جائے گی۔ وائلڈ لائف ترقیاتی منصوبوں کی مانیٹرنگ کے لیے تھرڈ پارٹی آڈٹ ہوگا۔