ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں مزید بڑھ گئیں

او سی اے سی  نے  پیٹرول بحران پر حکومت کو ہنگامی مراسلہ جاری کردیا ہے۔ 

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں مزید بڑھ گئیں
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک:مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی کشیدگی نے عالمی توانائی مارکیٹ کو ایک بار پھر غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل چوتھے روز بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

امریکا کی جانب سے ایران میں حالیہ کارروائی کے بعد سرمایہ کاروں میں تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات مزید شدت اختیار کر گئے ہیں۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت میں 0.4 فیصد اضافہ ہوا، جس کے بعد یہ 85.28 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جبکہ امریکی خام تیل (ڈبلیو ٹی آئی) 0.5 فیصد مہنگا ہو کر 80.02 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کرنے لگا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں حملوں اور وہاں سے تیل کی ترسیل متاثر ہونے کے خدشات کے باعث رواں ہفتے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

توانائی کے شعبے سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خلیجی ممالک سے تیل کی برآمدات میں رکاوٹ برقرار رہی تو برینٹ خام تیل کی قیمت 110 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر سکتی ہے۔

دوسری جانب او سی اے سی  نے  پیٹرول بحران پر حکومت کو ہنگامی مراسلہ جاری کردیا ہے۔ 

ملک میں پیٹرول کی قلت کا خدشہ ہے جس کے باعث فوری حکومتی مداخلت کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ 

ائل کمپنیز ایڈوائزری کونسل نے وفاقی وزیر پیٹرولیم کو ہنگامی مراسلہ جاری کردیا۔ او سی اے سی کے مطابق   ملک میں صرف 15 روز کا پیٹرول ذخیرہ باقی  ہے ۔کسٹمز کلیئرنس میں تاخیر سے پیٹرول سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ ہے ۔  اپ کنٹری علاقوں میں پیٹرول کی قلت پیدا ہو سکتی ہے۔ پی ایس او کا درآمدی کارگو منظور نہ ہونے سے سپلائی مزید دباؤ کا شکار  ہے ۔ 

 تیل کمپنیوں کے 66 ارب 70 کروڑ روپے کے واجبات فوری ادا کیے جائیں،  مالی دباؤ کے باعث آئل مارکیٹنگ کمپنیاں مشکلات کا شکار ہیں ۔  وزارتِ پیٹرولیم سے فوری اقدامات کی اپیل کر ے ۔ 66 ارب 70 کروڑ روپے کے زیر التوا پی ڈی سی کلیمز کی فوری ادائیگی کا مطالبہ کر دیا۔پیٹرولیم درآمدات پر بڑھتے اخراجات سے صنعت کی ورکنگ کیپیٹل ضروریات میں نمایاں اضافہ ہو گیا۔

  ویبوک کے ذریعے درآمدی پیٹرولیم مصنوعات کی کسٹمز کلیئرنس میں رکاوٹیں دور کرنے کا مطالبہ کر دیا۔فوری مالی ریلیف نہ ملا تو پیٹرولیم مصنوعات کی بروقت درآمدات متاثر ہونے کا خدشہ ہے ۔ 

ذرائع کے مطابق متعدد پٹرول پمپس قلت کی وجہ سے بند ہیں جس کے باعث عوام کہ شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔