ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

سموگ تدارک کیس ، عدالت نےپی ایچ اےکوپارکس کوکمرشل مقاصدکےاستعمال سےروک دیا

 سموگ تدارک کیس ، عدالت نےپی ایچ اےکوپارکس کوکمرشل مقاصدکےاستعمال سےروک دیا
سورس: Google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ملک اشرف :  لاہور ہائیکورٹ نے پی ایچ اے کو شہر کے پارکس کمرشل مقاصد کے لیے استعمال کرنے سے روک دیا ہے اور حکم دیا ہے کہ شہر کے دو پارکس کو ماڈل پارکس کی طرز پر ان کی اصل حالت میں بحال کیا جائے۔ عدالت نے واضح کیا کہ پی ایچ اے آئندہ کسی بھی پارک میں کمرشل سرگرمی شروع کرنے سے قبل ماحولیاتی کمیشن سے باقاعدہ اجازت حاصل کرے گی۔

جسٹس شاہد کریم نے سموگ کے تدارک سے متعلق کیس کی سماعت کی ،ماحولیاتی کمیشن کے ممبر نے عدالتی احکامات پر عملدرآمد سے متعلق رپورٹ پیش کی، جس میں انڈسٹریل یونٹس اور پنجاب یونیورسٹی کی بسوں کے حوالے سے تفصیلات سے آگاہ کیا گیا۔ممبر ماحولیاتی کمیشن نے عدالت کو بتایا کہ پنجاب یونیورسٹی کی 35 بسوں میں سے 30 بسوں نے ووکس سرٹیفکیٹ حاصل کر لیا ہے، جبکہ باقی بسوں کے لیے بھی اقدامات جاری ہیں۔ اس موقع پر جسٹس شاہد کریم نے ریمارکس دیے کہ آلودگی پھیلانے میں انڈسٹریل یونٹس کا کردار سب سے زیادہ ہے، اس لیے ان کے لیے ایک علیحدہ اور باقاعدہ مانیٹرنگ یونٹ ہونا چاہیے۔ عدالت نے کہا کہ انڈسٹریل آلودگی پر قابو پائے بغیر سموگ کے مسئلے کا حل ممکن نہیں۔وکیل اظہر صدیق نے نشاندہی کی کہ داتا دربار کے قریب سڑک کی توسیع کے نام پر ایک درخت کاٹا گیا ہے۔ جس پر جسٹس شاہد کریم نے ممبر ماحولیاتی کمیشن کو ہدایت کی کہ وہ اس معاملے کو فوری طور پر دیکھیں اور رپورٹ پیش کریں۔وکیل اظہر صدیق نے عدالت کو آگاہ کیا کہ پی ایچ اے پارکس کو کمرشل مقاصد کے لیے استعمال کر رہا ہے، جبکہ ادارے کا بنیادی کام پارکس کی دیکھ بھال اور تحفظ ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ایم ڈی پارکس اینڈ ہارٹیکلچر کو ڈی جی بنا دیا گیا ہے اور وہ پی ایچ اے کے پورے ادارے کو چیلنج کرنے کا منصوبہ رکھتے ہیں۔جسٹس شاہد کریم نے وکیل سے استفسار کیا کہ وہ عدالت سے کیا چاہتے ہیں، جس پر وکیل نے اپنے مؤقف کو دہرایا۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ پی ایچ اے کو پارکس کی دیکھ بھال کرنی چاہیے، نہ کہ انہیں کمرشل سرگرمیوں کے لیے استعمال کرے۔ عدالت نے کہا کہ اگر اس حوالے سے کوئی عدالتی فیصلے موجود ہیں تو انہیں ریکارڈ پر پیش کیا جائے۔
سماعت کے دوران وفاقی حکومت کی جانب سے ڈپٹی اٹارنی جنرل اسد علی باجوہ عدالت میں پیش ہوئے، جبکہ ڈپٹی ڈائریکٹر ماحولیات علی اعجاز سمیت دیگر متعلقہ افسران بھی عدالت کے روبرو موجود تھے۔
لاہور ہائیکورٹ نے کیس کی مزید سماعت 23 جنوری تک ملتوی کردی

Ansa Awais

Content Writer