ویب ڈیسک: آج کل کے دور میں اکثریت ٹک ٹاک استعمال کرتی ہے جبکہ جو صارفین اسے استعمال نہیں کرتے ان کی بھی آن لائن سرگرمیاں اس تک پہنچ سکتی ہیں۔
حالیہ تحقیقات کے مطابق TikTok کا ٹریکنگ ٹول، جسے "پکسل" کہا جاتا ہے، دنیا بھر کی متعدد ویب سائٹس پر موجود ہے۔ یہ ٹول صارفین کی ویب براؤزنگ سرگرمی کو مانیٹر کرتا ہے تاکہ اشتہارات کو مؤثر بنایا جا سکے۔
ماہرین کے مطابق اس نظام میں حالیہ تبدیلیوں کے بعد ویب سائٹس سے مزید ڈیٹا اکٹھا کیا جا سکتا ہے، چاہے متعلقہ شخص کا ٹک ٹاک اکاؤنٹ موجود نہ ہو۔
پرائیویسی ماہرین کا کہنا ہے کہ کچھ ویب سائٹس پر فارم بھرنے یا مخصوص بٹن پر کلک کرنے کی صورت میں معلومات خودکار طور پر اشتہاری نیٹ ورکس کے ساتھ شیئر ہو سکتی ہیں جبکہ ٹک ٹاک کا مؤقف ہے کہ وہ واضح پرائیویسی پالیسی رکھتا ہے اور ویب سائٹس اپنی ڈیٹا شیئرنگ کی خود ذمہ دار ہوتی ہیں۔
ماہرین صارفین کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ زیادہ محفوظ براؤزر استعمال کریں، ٹریکر بلاک کرنے والی ایکسٹینشنز انسٹال کریں اور اپنی پرائیویسی سیٹنگز کا باقاعدہ جائزہ لیں۔
اہم بات یہ ہے کہ اگر آپ ٹک ٹاک استعمال نہیں بھی کرتے، تب بھی آپ کی آن لائن سرگرمی اس کے اشتہاری نظام کا حصہ بن سکتی ہے اس لیے محتاط رہنا ضروری ہے۔