سٹی42: زرعی زمین میں سینکڑوں گہرے گڑھے پڑ گئے۔ کاشتکار اس آفت سے پریشان ہو گئے۔ ماہرین نے ان بہت بڑے سائز کے گڑھوں کی وجہ ایسی بتائی کہ کاشتکار حیران رہ گئے۔
ترکی کے کھیتوں کی زمین کو تقریباً 700 بڑے سنکھول کھا گئے۔ اپنے کھیتوں پر اچانک نازل ہونے والی اس آفت سے پریشان کاشتکاروں نے زرعی سائنسدانوں سے شکایت کی تو انہوں نے آ کر گڑھوں کا اور ارد گرد کی زمین کا سائنسی معائنہ کیا، زمین کے سیمپل لے کر ان کا لیبارٹری میں تجزیہ کیا اور بتایا کہ بڑے بڑے گڑھے زمین میں اندر گہرائی تک پانی خشک ہو جانے کی وجہ سے پڑے ہیں۔ زمین کے اندر گہرائی میں زمین خشک ہو کر سکڑی تو اوپر کی سطح سے مٹی نیچے چلی گئی اور اس سے اوپر زمین کی بیرونی سطح پر گڑھے نمودار ہو گئے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ 2000 کی دہائی میں خشک سالی اور زیر زمین پانی کے ٹیوب ویلوں کے ذریعہ بھاری مقدار میں اخراج کی وجہ سے 200 فٹ سے زیادہ گہرے سنک ھول ظاہر ہونا شروع ہوئے۔
طویل خشک سالی اور زیر زمین پانی کی مقدار میں شدید کمی کی وجہ سے ترکی کے میدانی خطہ کونیا میں کم از کم 684 سنک ھول بن چکے ہیں۔ ان بہت برے برے گڑھوں سے ایک نقصٓن تو زمین کا ہوا کہ یہ کاشت کے قابل نہیں رہی، دوسرے نقصانات جانوروں اور انسانوں کو ہو رہے ہیں جو ان گڑھوں میں گر جائیں تو زندگی کو خطرہ لاحق ہو جاتا ہے۔
جہازی سائز کے گڑھوں کے ارد گرد کھیتی باڑی کرنے والے کسان ہر وقت خوفزدہ رہتے ہیں کہ گڑھے کے قریب کی زمین بھی ٹوٹ کر کسی بھی وقت اندر گر جاتی ہے اور کہیں بھی کوئی نیا گڑھا بھی نمودار ہو جاتا ہے جو زمین کی سطح پر موجود ہر چیز کو اپنے ساتھ اندر کھینچ لیتا ہے۔
موسم کے امور پر کام کرنے والے امریکی ادارہ ایکو ویدر نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا کہ ترکی کے خشک سالی سے دوچار علاقے میں سیکڑوں سنکھول نمودار ہوئے ہیں، ، ان گڑھوں کی تعداد بڑھ رہی ہے اور یہ پھیل بھی رہے ہیں۔ان گڑھوں کی وجہ خشک سالی کو قرار دیا جا رہا ہے۔ کونیا کا میدانی علاقہ ترکی میں گندم کی کاشت کا اہم علاقہ ہے۔ ترکی کی ڈیزاسٹر اینڈ ایمرجنسی مینجمنٹ اتھارٹی کے حالیہ جائزے میں کونیا کے میدانی علاقے میں 684 سنک ھول مل چکے ہیں۔
کونیا کو اکثر ترکیہ کی روٹی کی ٹوکری کہا جاتا ہے۔ اب زمین میں گہرے سوراخ اس زرخیز زرعی علاقے کو توڑ پھوڑ رہے ہیں۔
ماہرین کلائمیٹ چینج ، خشک سالی اور وسیع پیمانے پر زیر زمین پانی کے اخراج کو ان بڑے گڑھوں کی بنیادی وجوہات قرار دیتے ہیں۔
گنے اور مکئی کی پیداوار کے لیے بھاری آبپاشی نے کونیا بیسن میں زیر زمین پانی کی کمی کو تیز کر دیا ہے۔ ترکی کے ارضیاتی مطالعات کے مطابق، کونیا کے کچھ حصوں میں زمین کے نیچے پانی کی سطح پچھلی چند دہائیوں میں دسیوں میٹر تک گر گئی ہے۔
کونیا ٹیکنیکل یونیورسٹی کے مطابق، کونیا کے ضلع کاراپنر میں پچھلے ایک سال میں 20 سے زیادہ نئے بڑے سنک ھولز سامنے آئے ہیں۔ ان میں سے کچھ سنکھول 100 فٹ سے زیادہ چوڑے اور سینکڑوں فٹ گہرے ہیں۔
کونیا کے علاقے نے تاریخی طور پر 2000 کی دہائی سے پہلے ہر دہائی میں صرف مٹھی بھر سنکھول دیکھے تھے۔ اب سالانہ درجنوں نئے گڑھے نمودار ہوتے ہیں۔ یونیورسٹی کے سِنک ھول ریسرچ سینٹر نے کہا کہ 2021 کے آخر تک تقریباً 1,850 علاقے کم ہو رہے تھے۔

ناسا کی ارتھ آبزرویٹری کے مطابق ترکیہ کو شدید خشک سالی کا سامنا ہے اور پانی کے ذخائر 2021 میں 15 سال میں اپنی کم ترین سطح پر پہنچ گئے ہیں۔
ترکی ٹوڈے نے رپورٹ کیا ہے کہ کاراپنر میں سِنک ہول کھیتوں کی زمینوں کے لئے خطرہ بن رہے ہیں، اور کسانوں کو نئے زیر کاشت علاقےمنہدم ہونے سے لاحق خطرات کے بارے میں تشویش بڑھ رہی ہے۔ کچھ کسانوں نے سنک ھول گرنے سے فصلوں کی زمین کھو دی ہے یا وہ زیادہ خطرے والے کھیتوں کو چھوڑنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔

ترک حکام نے کونیا طاس میں نگرانی بڑھا دی ہے اور علاقے میں کنووں اور ٹیوب ویل کی غیر قانونی کھدائی کو کم کرنے کے لیے پروگرام شروع کیے ہیں۔

