سٹی42: ایف بی آئی نے نیو ائیر نائیٹ پر لاس اینجلس کو بم دھماکوں سے نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کو ناکام بنا دیا۔
چار افراد کو لاس اینجلس کی عدالت مین پیش کیا گیا ہے، ان چاروں پر سازش اور غیر رجسٹرڈ تباہ کن ڈیوائس رکھنے کا الزام سامنے آیا ہے۔
چار افراد کو اس منصوبہ بندی کے سلسلے میں مجرمانہ الزامات کا سامنا ہے جسے اٹارنی جنرل پام بوندی نے پیر کو ایک ناکام بم سازش قرار دیا ۔ اس بم دھماکوں کے منصوبے میں متعدد اہداف بشمول امریکی امیگریشن ایجنٹس اور ان کی گاڑیاں شامل ہیں۔
کیلیفورنیا کے سنٹرل ڈسٹرکٹ کے لیے امریکی ڈسٹرکٹ کورٹ میں دائر کی گئی شکایت کے مطابق، چار افراد پر سازش اور غیر رجسٹرڈ تباہ کن ڈیوائس رکھنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
اٹارنی جنرل پام بوندی نے ایک بیان میں کہا، "ٹرٹل آئی لینڈ لبریشن فرنٹ - ایک انتہائی بائیں بازو کا، فلسطین کا حامی، حکومت مخالف، اور سرمایہ دارانہ نظام کا مخالف گروپ - کیلیفورنیا میں نئے سال کی شام سے شروع ہو کر متعدد اہداف کے خلاف سلسلہ وار بم حملے کرنے کی تیاری کر رہا تھا۔
شکایت میں کہا گیا کہ بم دھماکے کی سازش میں لاس اینجلس کے علاقے میں نئے سال کے موقع پر آدھی رات کو دو امریکی کمپنیوں کو نشانہ بنانے کے لئے پانچ مقامات پر دھماکہ خیز مواد نصب کرنے کا منصوبہ تیار کیا گیا تھا۔
یہ کیس اس وقت سامنے آیا جب اٹارنی جنرل بوندی نے قانون نافذ کرنے والے ایجنٹوں اور پراسیکیوٹرز کو ایک میمو جاری کیا، جس میں انہیں بائیں بازو کی طرف جھکاؤ رکھنے والے "انتہا پسند" گروپوں کے بارے میں تحقیقات کو تیز کرنے کا حکم دیا گیا۔
بم پلاٹ کیا تھا
شکایت میں نامزد چار ملزموں کے نام آدری ایلین کیرول، 30، زچری آرون پیج، 32، ڈینٹ گیفیلڈ، 24، اور 41 سالہ ٹینا لائی ہیں۔ یہ خبر بتانے والی نیوز ایجنسی کا کہنا ہے کہ وہ فوری طور پر اس بات کا تعین نہیں کر سکے کہ فوجداری مقدمے میں ان ملزموں کی نمائندگی کون کر رہا ہے۔
شکایت کی حمایت میں حلفیہ بیان کے مطابق، کیرول نے نومبر میں ایک آٹھ صفحات پر مشتمل ہاتھ سے لکھی ہوئی دستاویز ایک خفیہ ذریعہ کو پیش کی جس کا عنوان تھا "آپریشن مڈ نائٹ سن" جس میں بم کی سازش کی وضاحت کی گئی تھی۔
کیرول اور پیج نے بعد میں مبینہ طور پر دیگر دو مدعا علیہان کو اس منصوبے کو انجام دینے میں مدد کے لیے بھرتی کیا، جس میں "بم بنانے کا سامان حاصل کرنا اور موجاوی صحرا میں 12 دسمبر 2025 کو ٹیسٹ دھماکہ خیز آلات کی تنصیب اور دھماکہ کرنے کے لیے دور دراز مقام کا سفر کرنا،"شامل تھا۔
اس سے پہلے کہ وہ ایک فعال دھماکہ خیز ڈیوائس کو جمع کرنے کے لیے اپنا کام مکمل کر سکیں۔ایف بی آئی کے ایجنٹوں نے مداخلت کی اور اس منصوبہ کو ناکام بنا دیا۔
"ٹرٹل آئی لینڈ لبریشن فرنٹ - ایل اے چیپٹر" اس کے سوشل میڈیا پیج پر موجود بیان کے مطابق "ڈی کالونائزیشن اور قبائلی خودمختاری کے ذریعے آزادی" کے لیے وقف ہے۔ اس بات کی نشاندہی بھی عدالت میں پیش کی گئی شکایت میں کی گئی جس کےمطابق، جس میں یہ الزام لگایا گیا ہے کہ یہ گروپ "سرمایہ دار مخالف، حکومت مخالف تحریک ہے۔"
شکایت میں کہا گیا ہے کہ چاروں مدعا علیہان "آرڈر آف دی بلیک لوٹس" کے نام سے سگنل ائیپ کے گروپ چیٹ کا حصہ تھے، جن میں سے ایک نے "بنیاد پرست" کے طور پر خود کو بیان کیا۔
مبینہ طور پر نئے سال کے موقع پر بم نصب کرنے کی منصوبہ بندی کرنے کے علاوہ، گروپ نے جنوری یا فروری میں امیگریشن اور کسٹمز انفورسمنٹ ایجنٹس اور پائپ بموں کے ساتھ والی گاڑیوں کو نشانہ بنانے پر بھی تبادلہ خیال کیا، شکایت میں کہا گیا کہ کیرول نے مبینہ طور پر کہا: "یہ ان میں سے کچھ کو بھگا دے گا اور باقی کو خوفزدہ کر دے گا۔"
مزید چارجز کا امکان
لاس اینجلس میں امریکی اٹارنی آفس کی قیادت کرنے والے بل ایسیلی نے ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ وہ توقع کرتے ہیں کہ آنے والے ہفتوں میں پراسیکیوٹرز ان ملزموں پر مزید الزامات دائر کریں گے۔ اس دوران تفتیش کار شواہد کا جائزہ لیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ چاروں ملزمان کو 12 دسمبر کو گرفتار کیا گیا تھا۔
انہوں نے یہ بتانے سے انکار کر دیا کہ گروپ کی طرف سے کن کمپنیوں کو نشانہ بنایا گیا، صرف یہ کہتے ہوئے کہ وہ عام طور پر "ایمیزون قسم کے لاجسٹک مراکز" تھے۔
عہدیداروں نے پریس کانفرنس میں ایف بی آئی کی طرف سے حاصل کردہ نگرانی کی فوٹیج چلائی جس میں دکھایا گیا تھا کہ لوگ صحرا میں ایک میز پر پیشگی کیمیکل اور دیگر بم بنانے والے مواد کو رکھ رہے ہیں۔