پاکستان سٹیزن پورٹل کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ

 پاکستان سٹیزن پورٹل کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ

(سٹی42)لاہورہائیکورٹ میں پاکستان سٹیزن پورٹل قائم کرنےکےخلاف دائردرخواست پرسماعت ہوئی،عدالت نے فریقین کا موقف سن کر درخواست پرفیصلہ محفوظ کرلیا۔

جسٹس سیدمظاہرعلی اکبرنقوی نے ڈاکٹررانا فاروق کی درخواست پرسماعت کی، اٹارنی جنرل انورمنصور احمد اورایڈیشنل اٹارنی جنرل آف پاکستان اشتیاق خان عدالت میں پیش ہوئے، درخواست گزارکی جانب سےرانا مہتاب احمد خان ایڈووکیٹ نےموقف اختیار کیا کہ پاکستان سٹیزن پورٹل کےذریعےسرکاری افسران کیخلاف درخواستیں وصول کی جارہی ہیں،پورٹل کےقیام کیلئےپارلیمنٹ سےمنظوری نہیں لی گئی، پاکستان سٹیزن پورٹل کسی قانونی جوازکےبغیرقائم کیا گیا۔

اٹارنی جنرل انور منصورنےبتایا کہ بغیرنام اور شناخت کےکوئی درخواست وصول نہیں کی جاتی،سٹیزن پورٹل کے پاس تمام شکایت کنندگان شہریوں کی شناخت موجود ہے،تمام قانونی تقاضےپورےکرنےکےبعد پاکستان سٹیزن پورٹل قائم کیا گیا، درخواست گزار وکیل نےکہا کہ پورٹل میں نامعلوم افرادکی دی گئی درخواستوں پربھی کارروائی کا آغازکردیاجاتاہے، اٹارنی جنرل نے جواب دیا شکایات کا جائزہ لے کر متعلقہ سیکرٹری کی منظوری کےبعد کارروائی شروع کی جاتی ہے.

جسٹس سید مظاہرعلی اکبرنقوی نےاٹارنی جنرل سےاستفسارکیا کہ آپ کے پاس پاکستان سٹیزن پورٹل کوموصول ہونے والی درخواستوں کا ڈیٹا موجود ہے؟ اٹارنی جنرل آف پاکستان نے جواب دیا وفاقی حکومت کےپاس تیرہ لاکھ ایک ہزار چھ سو اکیس شہری رجسٹرڈ ہیں،،چودہ لاکھ 57 ہزار938 شکایات وصول کی ہیں۔

بارہ لاکھ نوے ہزارنوسو پچاس شکایات کو حل کرایا،،ایڈیشنل اٹارنی جنرل اشتیاق اے خان نےبتایا اکتالیس فیصد لوگوں نے پاکستان سٹیزن پورٹل پراطیمنان کا اظہار کیا،جسٹس سید مظاہر علی اکبر نقوی نے ریمارکس دئیے پاکستان سٹیزن پورٹل نےتوعدالتوں سے بھی زیادہ کارکردگی دکھائی، عدالت نے فریقین کا موقف سن کر درخواست پرفیصلہ محفوظ کرلیا۔