ویب ڈیسک: جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ نے شمالی کوریا کو کئی دہائیوں سے جاری جنگ باضابطہ طور پر ختم کرنے کے لیے براہِ راست مذاکرات کی پیشکش کردی۔
جنوبی کوریا کے صدر نے ملک کی آزادی کی سالگرہ کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کو ایک دوسرے کو دھمکیاں دینے کا سلسلہ روک کر مذاکرات کی میز پر آنا چاہیے تاکہ جنگ کے خاتمے اور مستقل امن معاہدے کی راہ ہموار ہوسکے۔
انہوں نے کہا کہ مذاکرات کے ذریعے شمالی کوریا کے جوہری پروگرام کی مزید توسیع روکنے کے طریقوں پر بھی بات کی جاسکتی ہے، جبکہ بات چیت کا بنیادی مقصد جزیرہ نما کوریا میں کشیدگی کم کرکے پائیدار امن قائم کرنا ہونا چاہیے۔
واضح رہے کہ 1950 سے 1953 تک جاری رہنے والی کوریائی جنگ مکمل امن معاہدے کے بجائے جنگ بندی کے معاہدے پر ختم ہوئی تھی، جس کے باعث دونوں کوریا تکنیکی طور پر اب بھی حالتِ جنگ میں ہیں۔
صدر لی جے میونگ نے گزشتہ سال اقتدار سنبھالنے کے بعد شمالی کوریا کے حوالے سے نسبتاً مفاہمتی پالیسی اختیار کی ہے اور متعدد مرتبہ بغیر پیشگی شرائط کے مذاکرات کی پیشکش کرچکے ہیں، تاہم پیانگ یانگ کی جانب سے اب تک ان پیشکشوں کا مثبت جواب نہیں دیا گیا۔
شمالی کوریا امریکا اور جنوبی کوریا کی مشترکہ فوجی مشقوں کی شدید مخالفت کرتا ہے اور خبردار کرچکا ہے کہ ایسی سرگرمیوں کے جواب میں وہ اپنی دفاعی اور جوہری صلاحیتوں کو مزید مضبوط کرے گا۔
دوسری جانب شمالی کوریا نے روس کے ساتھ اپنے فوجی تعلقات بھی مزید مضبوط کیے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق روس اور شمالی کوریا کے درمیان فوجی تعاون میں اضافے سے جزیرہ نما کوریا کی سیکیورٹی صورتحال مزید پیچیدہ ہوگئی ہے۔
ادھر امریکا اور جنوبی کوریا کی 11 روزہ مشترکہ فوجی مشقیں بھی شروع ہونے والی ہیں، جن میں شمالی کوریا کی بدلتی ہوئی فوجی صلاحیتوں اور جنگی تجربات سے پیدا ہونے والے ممکنہ خطرات کو مدنظر رکھا جائے گا۔