ویب ڈیسک:مغربی بنگال اسمبلی کے سابق ڈپٹی اسپیکر اور پانچ مرتبہ رکن اسمبلی رہنے والے ترنمول کانگریس کے سینئر رہنما آشیش بنرجی کی لاش بیر بھوم ضلع کے رام پورہاٹ میں واقع پارٹی دفتر سے برآمد ہوئی ہے۔ پولیس نے لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھجوا دیا، جبکہ جائے وقوعہ سے مبینہ طور پر ایک خودکشی نوٹ بھی ملا ہے۔
پولیس کے مطابق آشیش بنرجی اپنے گھر سے متصل پارٹی دفتر میں پھندے سے لٹکے ہوئے پائے گئے۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی پارٹی دفتر کے باہر لوگوں کی بڑی تعداد جمع ہوگئی۔ پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کردی ہیں۔
مقامی رپورٹس کے مطابق لاش کے قریب ہاتھ سے لکھا ہوا ایک نوٹ بھی ملا، جس میں مبینہ طور پر کہا گیا ہے کہ ان کی موت کا ذمہ دار کوئی نہیں۔ نوٹ میں آشیش بنرجی نے سیاست میں آنے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اپنے خاندان کے نوجوانوں کو سیاست سے دور رہنے اور اپنے پیشہ ورانہ مستقبل پر توجہ دینے کا مشورہ دیا۔
مبینہ نوٹ میں انہوں نے کرپشن میں ملوث ہونے کی تردید کرتے ہوئے لکھا کہ وہ پارٹی کی مبینہ غلط کاریوں کو قبول نہیں کرسکتے تھے، تاہم ان کے خلاف احتجاج کرنے کی پوزیشن میں بھی نہیں تھے۔
آشیش بنرجی نے تاراپیٹھ رام پورہاٹ ڈیولپمنٹ اتھارٹی میں اپنے اختیارات محدود ہونے کا بھی دعویٰ کیا۔ ان کے مطابق ان کی ذمہ داری صرف عمومی اجلاسوں میں شرکت تک محدود تھی، جبکہ وہ ٹینڈر کمیٹی کا حصہ نہیں تھے اور نہ ہی انہیں چیکس پر دستخط کرنے، منصوبوں کی منظوری دینے یا نو آبجیکشن سرٹیفکیٹ جاری کرنے کا اختیار حاصل تھا۔
آشیش بنرجی، جو وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی حکومت میں تعلیم اور زراعت کے وزیر بھی رہ چکے تھے، رواں سال ہونے والے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی امیدوار دھرو سہانے کے ہاتھوں شکست کھا گئے تھے۔
ان کی موت کی خبر سامنے آنے کے بعد ترنمول کانگریس کے رکن پارلیمنٹ ابھیشیک بنرجی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ردعمل دیتے ہوئے آشیش بنرجی کے خلاف مبینہ منفی مہم چلانے والوں کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ مبینہ آخری نوٹ میں طویل عرصے سے جاری اس مہم کے حوالے سے سنگین اور تشویشناک سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
آشیش بنرجی نے رواں سال جون میں ترنمول کانگریس کی بیر بھوم ضلعی کور کمیٹی کے چیئرمین کا عہدہ چھوڑ دیا تھا، تاہم انہوں نے پارٹی کی بنیادی رکنیت برقرار رکھنے کا اعلان کیا تھا۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب مغربی بنگال میں ترنمول کانگریس کے طویل اقتدار کے خاتمے کے بعد پارٹی کو سیاسی تبدیلیوں کا سامنا ہے، جبکہ متعدد سابق ارکان اسمبلی اور رہنما بدعنوانی سے متعلق تحقیقات اور گرفتاریوں کی زد میں بھی ہیں۔