ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

فیصل آباد میں پولیس کے مبینہ ناروا رویے کیخلاف وکلاء کا کل مکمل ہڑتال کا اعلان

فیصل آباد میں پولیس کے مبینہ ناروا رویے کیخلاف وکلاء کا کل مکمل ہڑتال کا اعلان
کیپشن: file photo
سورس: google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ملک اشرف: پولیس کے مبینہ ناروا، غیرقانونی اور غیرمہذب رویے کے خلاف فیصل آباد کے وکلاء نے 17 اگست کو مکمل ہڑتال کا اعلان کر دیا ہے۔ پنجاب بار کونسل کے وائس چیئرمین قیصر نذیر ساہی اور دیگر عہدیداران کی جانب سے ہڑتال کی کال دی گئی ہے، جس کے تحت وکلاء کل عدالتوں میں پیش نہیں ہوں گے۔

وکلاء کا مؤقف ہے کہ یہ احتجاج چودھری امتیاز احمد لونا کے بیٹوں کو پولیس اہلکاروں کی جانب سے مبینہ طور پر ہراساں کیے جانے کے معاملے پر کیا جا رہا ہے۔ وکلاء نے سب انسپکٹرز طیب اور رضوان پر مبینہ اغواء کی کوشش اور ہراساں کرنے کے الزامات عائد کیے ہیں۔

وکلاء نے آئی جی پنجاب، آر پی او اور سی پی او فیصل آباد سے مبینہ طور پر ملوث پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ ایس ایچ او مدینہ ٹاؤن عدیل اکرم چیمہ کے خلاف کارروائی اور ایس پی مدینہ ٹاؤن اظہر جاوید کے فوری تبادلے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔

قیصر نذیر ساہی کی جانب سے فیصل آباد میں چند روز کے دوران یہ دوسری ہڑتال کی کال ہے۔ پنجاب بار کونسل نے اس سے قبل 11 اگست کو بھی فیصل آباد ڈویژن میں مکمل ہڑتال کی کال دی تھی۔

پولیس اور وکلاء کے درمیان جاری تنازع کے باعث قانونی حلقوں میں یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ معاملے کو متعلقہ قانونی فورمز پر لے جانے کے بجائے بار بار ہڑتال کا راستہ کیوں اختیار کیا جا رہا ہے۔

وکلاء کی ہڑتال کے باعث فیصل آباد کی مختلف عدالتوں میں مقدمات کی سماعت متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ ہڑتال کی وجہ سے دور دراز علاقوں سے عدالتوں میں آنے والے سائلین کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جبکہ زیرِ سماعت مقدمات کی کارروائی میں تاخیر کا امکان ہے۔

پنجاب بار کونسل کے مطابق 17 اگست کو فیصل آباد کے وکلاء عدالتوں میں پیش نہیں ہوں گے اور مکمل دن ہڑتال کی جائے گی۔ وکلاء نے مطالبات کی منظوری تک اپنے احتجاج کا سلسلہ جاری رکھنے کا عندیہ بھی دیا ہے۔