(ملک اشرف)لاہور ہائیکورٹ میں پنجاب پروٹیکشن آف وومن وائلنس ایکٹ 2016 پر عمل درآمد نہ ہونے کے متعلق کیس کی سماعت،سیکرٹری سوشل ویلفئیر ، ڈی جی ویلفئیر سمیت دیگر افسران پیش ،عدالت کا پنجاب پروٹیکشن آف وومن وائلنس ایکٹ پر پانچ سال بعد بھی عمل درآمد نہ ہونے پر اظہار ناراضگی ، عدالت نے سیکرٹری سوشل ویلفئیر کو مکمل رہورٹ سمیت کل پھر ہیش ہونے کا حکم دے دیا،محکمہ قانون کا سنئیر افسر بھی عدالتی معاونت کے لئے طلب کرلیاگیا۔
تفصیلات کے مطابق جسٹس علی ضیاء باجوہ نے خاتون شبنم دل کی درخواست پر سماعت کی,عدالتی حکم پر سیکرٹری ویلفیئر ، ڈی جی ویلفئیر سمیت دیگر افسران پیش ہوئے،درخواست گزار خاتون نے اپنی بیٹی ملکہ کی اس کے خاوند کی تحویل سے بازیابی کے لئے دائر درخواست میں موقف اختیار کیا تھا کہ ملکہ کےخاوند نےاسے حبس بے جا میں رکھ کر تشدد کا نشانہ بنا رہا ہے.
عدالتی حکم پر پولیس نے درخواست گزار کی بیٹی کو بازیاب کرکے عداکت پیش کردیا،میڈیکل رپورٹ میں بازیاب ہونے والی خاتون پر تشدد بھی ثابت ہوگیا، جسٹس علی ضیاء باجوہ نے پنجاب وومن پروٹیکشن ایکٹ 2016ہ پر عمل درآمد نہ ہونے پر سیکرٹری سوشل ویلفئیر سے استفسار کیا لیکن وہ تسلی بخش جواب نہ دے سکا۔
جسٹس علی ضیاء باجوہ نے سحر بندیال کو عدالتی معاون مقرر کرتے ہوئے ریمارکس دئیے کہ ایکٹ بننے کے بعد صرف ملتان میں اس کا اطلاق ہوا،35 اضلاع میں عمل درآمد کیوں نہیں ہوا، اس حوالے سے عدالت کی معاونت کی جائے کہ اس ایکٹ کا اطلاق کیوں نہیں ہوا،اور اس کے نفاذ میں کیا مشکلات ہیں؟مفاد عامہ کا اہم کیس ہے۔
عدالت فریقین کو سن کر اس کا جمعہ کے روز فیصلہ کردے گی، عدالت نے کیس کی سماعت 17 اگست تک ملتوی کرتے ہوئے سیکرٹری سوشل ویلفئیر کو مکمل رپورٹ سمیت پیش ہونے کا حکم دیا۔