ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

ظالم باپ کا بچے کیساتھ بھیانک سلوک،انسانیت بھی شرما جائے

ظالم باپ کا بچے کیساتھ بھیانک سلوک،انسانیت بھی شرما جائے
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک) فرانس سے ایک دردناک واقعہ سامنے آیا ہے۔ جہاں ایک چھوٹے سے بچے کو اس کے اپنوں نے  دو سال تک ایسی حالت میں رکھا کہ دیکھ کر ہر کسی کا دل پھٹ جائے۔   اگر پڑوسیوں نے شکایت نہ کی ہوتی تو شاید وہ کبھی بھی اس جہنم سے باہر نہ نکل پاتا۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس  کے مطابق  ایک 9 سالہ لڑکے کو 2024 سے مشرقی فرانس میں اپنے والد کی یوٹیلیٹی وین میں بند رہنے کے بعد بچا لیا گیا ہے، مقامی پراسیکیوٹر کے مطابق بچے کو اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے، اور اس کے والد کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ پراسیکیوٹر نکولس ہیٹز کے ایک بیان کے مطابق سوئٹزرلینڈ اور جرمنی کی سرحدوں کے قریب ہیگن باخ کے گاؤں میں پیر کے روز ایک وین سے آنے والی "بچے کی آوازوں" کے بارے میں پولیس کو ایک پڑوسی نے الرٹ کیا تھا۔ اس کے بعد پولیس موقع پر پہنچی اور تفتیش کے دوران وین کو زبردستی کھولنا پڑا۔جب حکام نے وین کا دروازہ تو اندر کا منظر انتہائی دردناک تھا۔ بچہ کچرے کے ڈھیر پر، گندگی اور فضلے کے پاس، کمبل میں لپٹا ہوا پڑا تھا۔ اس کے جسم پر کپڑے بھی نہیں تھے۔

مقامی پراسیکیوٹر نکولس ہیٹز کے مطابق بچہ غذائی کمی کا شکار تھا اور تقریباً دو سال تک ایک ہی حالت میں بیٹھے رہنے کی وجہ سے وہ چلنے پھرنے کے قابل بھی نہیں رہا تھا۔ تحقیقات میں بچے کے والد نے بتایا کہ اس نے نومبر 2024 میں بچے کو وین میں اس لیے رکھا کیونکہ وہ اسے محفوظ رکھنا چاہتا تھا۔ اس نے یہ بھی کہا کہ اس کی پارٹنر بچے کو ذہنی اسپتال بھیجنا چاہتی تھی۔ تاہم وکیل کے مطابق اس بات کا کوئی میڈیکل ریکارڈ نہیں ملا کہ بچے کو کوئی ذہنی بیماری تھی۔ اس کے برعکس واقعے سے پہلے وہ اسکول میں اچھے نمبر حاصل کرتا تھا۔

بچے نے تفتیش کاروں کو بتایا کہ اسے اپنے والد کی پارٹنر کے ساتھ کافی مسائل تھے۔ اس نے یہ بھی کہا کہ اسی وجہ سے اس کے والد نے اسے وین میں بند کر دیا۔ پولیس نے والد کو اغوا اور دیگر سنگین الزامات کے تحت گرفتار کر لیا ہے۔ جبکہ اس کی پارٹنر پر بھی خطرے میں پڑے بچے کی مدد نہ کرنے کا الزام لگایا گیا۔ تاہم بعد میں اسے عدالتی نگرانی میں رہا کر دیا گیا۔ فی الحال پولیس اس پورے معاملے کی گہرائی سے تفتیش کر رہی ہے اور یہ جاننے کی کوشش کر رہی ہے کہ بچے کے ساتھ اتنے طویل عرصے تک ایسا کیسے ہوتا رہا۔