ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

پاکستان میں انٹرنیٹ سے محروم علاقوں کیلئے پی ٹی اے کا بڑا اقدام

پاکستان میں انٹرنیٹ سے محروم علاقوں کیلئے پی ٹی اے کا بڑا اقدام
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک : پاکستان میں انٹرنیٹ سے محروم علاقوں کے لیے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی جانب سے اہم اقدام اٹھایا گیا ہے۔

پاکستان میں تقریباً ہر شعبہ میں انٹرنیٹ کا استعمال بڑھ چکا ہے، تاہم دور دراز کے علاقوں کے رہائشی انٹرنیٹ کی سہولت سے محروم ہیں۔

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے فکسڈ فکسڈ سیٹلائیٹ سروسز کے لائسنس کا مسودہ جاری کر دیا ہے۔ اس اقدام کی بدولت پاکستان میں جہاں انٹرنیٹ کی عالمی و مقامی سیٹلائیٹ کمپنیوں کو اپنا کاروبار فروغ دینے کے لیے راہ ہموار ہوئی ہے، وہیں اب دور دراز علاقوں میں بھی انٹرنیٹ کی سہولت ممکن ہوگی۔

پی ٹی اے کے جاری اعلامیہ کے مطابق مسودہ لائسنس کے تحت کمپنیاں سیٹلائیٹ سسٹمز قائم اور چلانے کی مجاز ہوں گی اور لائسنس حاسل کرنے کے بعد وہ صارفین کو براہ راست سروس دے سکیں گی۔ سیٹلائیٹ کمپنیوں کو فکسڈ ارتھ اسٹیشن، گیٹ وے اسٹیشن اور وی سیٹ کی اجازت ہوگی، جب کہ براڈ بینڈ، بیک ہال اور انٹرنیٹ بینڈ وڈتھ سروسز فراہم کی جا سکیں گی۔

علامیے میں بتایا گیا ہے کہ فکسڈ سیٹلائیٹ سروس لائسنس فیس 5 لاکھ ڈالر مقرر کی گئی ہے۔ لائسنس کی مدت 15 سال ہو گی، اور منظوری کے 18 ماہ میں سروسز دینا ہوگی۔ اس کے علاوہ کمپنیوں کو پاکستان میں کم از کم ایک گیٹ وے اسٹیشن قائم کرنا ہوگا۔ اس نئے نظام سے صرف ایک لائسنس پر سیٹلائٹ سروسز ممکن ہوں گی۔ تاہم لائسنس کے تحت کمپنیاں صارفین کا ڈیٹا ملک کے اندر ہی محفوظ رکھنے کی پابند ہوں گی۔

پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ اسٹار لنک، شنگھائی اسپیس کام اور دیگر کمپنیاں پاکستان میں سرمایہ کاری کی خواہاں ہیں۔

پی ٹی اے نے مسودہ لائسنس اسٹیک ہولڈرز کی آرا کے بعد تیار کیا گیا ہے، جس میں رواں برس فروری کے مشاورتی عمل میں دی جانے والی تجاویز بھی شامل کی گئی ہیں۔ ٹیلی کام ایکٹ اور پالیسیوں کے مطابق مسودے میں ترامیم بھی کی گئی ہیں۔