ویب ڈیسک : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ چین کے دورے پر جانے والے امریکی عملے نے وہاں سے روانگی سے پہلے چینی حکام کی جانب سے دی گئی ہر چیز وہیں پھینک دیں۔
امریکی وفد میں موجود صحافی 'ایملی گڈان' نے چین سے روانگی کے وقت اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھاکہ ائیر فورس ون میں سوار ہونے سے پہلے امریکی عملے نے چینی حکام کی دی ہوئی ہر چیز جیسے شناختی کارڈز، عارضی برنر فونز وغیرہ سب جمع کر کے وہیں سیڑھیوں کے نیچے موجود ایک ڈبے میں پھینک دیں۔
American staff took everything Chinese officials handed out - credentials, burner phones from WH staff, pins for delegation - collected them before we got on AF1 and threw them in a bin at bottom at stairs.
Nothing from China allowed on the plane. We’re taking off shortly for…
— Emily Goodin (@Emilylgoodin) May 15, 2026
صحافی نے دعویٰ کیا ہے کہ چین کی جانب سے دی گئی کسی بھی چیز کو طیارے میں لے جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔جبکہ واضح رہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورہ چین میں امریکی وفد کے ارکان ذاتی ڈیوائسز بھی ساتھ نہیں لے کر گئے تھے۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق بہت سے اراکین تو اپنے فون اور لیپ ٹاپ ساتھ لے کر ہی نہیں گئے، امریکی حکام کو خدشہ تھا کہ کہیں کوئی چینی سکیورٹی سسٹم ان کے ذاتی لیپ ٹاپ اور فون کی جاسوسی نہ کرلے۔
اس لیے سوال اٹھایا جارہا ہے کہ سیکورٹی یا احتیاط؟؟ٹرمپ کیساتھ چین جانے والا عملہ ذاتی ڈیوائسز امریکہ چھوڑ گیا جبکہ چینی حکام کی دی ہر چیز وہیں پھینک دی کیا امریکی اراکین چائنہ کے سیکورٹی سسٹم سے خوف زدہ ہے یا اپنے سیکورٹی معیار سے خوف زدہ ہے ۔