ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

بھارت میں پٹرول اور ڈیزل مہنگا، چار سال بعد بڑا اضافہ

بھارت میں پٹرول اور ڈیزل مہنگا، چار سال بعد بڑا اضافہ
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک: بھارت میں توانائی بحران کے ابتدائی اثرات نمایاں ہونا شروع ہوگئے ہیں، جہاں عالمی تیل مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ نے مقامی سطح پر ایندھن کی قیمتوں کو متاثر کر دیا ہے۔ چار سال کے طویل وقفے کے بعد حکومت کو بالآخر پٹرول اور ڈیزل مہنگا کرنا پڑا، جس سے مہنگائی کے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارت کی سرکاری آئل ریفائنریز نے قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے، جس کی بنیادی وجہ ایران سے جڑے جغرافیائی تنازع کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی بڑھتی قیمتیں اور ریفائننگ شعبے پر بڑھتا مالی دباؤ ہے۔

نئے نرخوں کے تحت پٹرول اور ڈیزل دونوں کی قیمتوں میں 3 فیصد سے زائد اضافہ کیا گیا ہے، اگرچہ یہ اضافہ خام تیل کی قیمتوں میں تقریباً 50 فیصد اضافے کے مقابلے میں کم ہے۔ تازہ قیمتوں کے مطابق نئی دہلی میں ڈیزل 90.67 روپے فی لیٹر جبکہ پٹرول 97.77 روپے فی لیٹر تک پہنچ گیا ہے، جو مئی 2022 کے بعد بلند ترین سطح ہے۔

ماہرین کے مطابق عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے اثرات جنوبی ایشیا کی معیشتوں پر بھی پڑ رہے ہیں، جس سے مہنگائی میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو خطے میں ایندھن مزید مہنگا ہو سکتا ہے، جس کا براہِ راست اثر عام صارفین اور ٹرانسپورٹ کے شعبے پر پڑے گا۔