امانت گشکوری :وفاقی آئینی عدالت میں ایرانی ڈیزل سمگلنگ کی ایف آئی آر کالعدم قرار دینے کیخلاف اپیل کی گئی ۔
مال مقدمہ واپس کرنے پر حکم امتناع جاری کرنے کی کسٹمز کی استدعا مسترد کردی۔ وکیل کسٹمز نے کہا سمگل شدہ ڈیزل پکڑ کر نیلام کیا جاتا ہے،، جسٹس روزی خان نے کہا نیلامی کے ایک ٹینکر کا اجازت نامہ دس دس ٹینکرز لانے میں استعمال ہوتا ہے۔ وکیل کسٹمز کے مطابقبغیر تحقیقات کے ہی ایف آئی آر پہلے معطل پھر کالعدم قرار دی گئی،
وکیل سٹوریج کمپنی احسن بھون واحد ثبوت صرف ڈرائیور کا بیان ہے کہ نیلامی کا اجازت نامہ دوبارہ استعمال ہو رہا،مقدمہ کی آڑ میں پورا سٹوریج سینٹر ہی سیل کر دیا گیا ہے، جسٹس روزی خان نے پوچھا شواہد کے بغیر حقائق کا تعین کیسے ہوسکتا ہے؟ جسٹس باقر نجفی نے کہا ایف آئی آر بدنیتی پر ہی خارج ہوسکتی ہے اس کیس میں کیا بدنیتی ہے؟
احسن بھون نے بتایا کہ پورا سٹوریج پوائنٹ ہی سیل کر دیا گیا ہے جہاں ریفائنری کا آئل بھی ہوتا ہے،دو آئل ٹینکرز سڑک سے پکڑے، چار سٹوریج کے ایریا سے تحویل میں لیے گئے، سٹوریج سینٹر ڈی سیل کرنے پر اعتراض نہیں ہے، کیس ختم ہونے سے مال مقدمہ بھی واپس کروایا جا رہا ہے۔کیس کی سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی گئی ۔
چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی