ملک اشرف : پولیس کی ناقص تفتیش اورڈی پی اومنڈی بہاؤالدین کی مبینہ غلط بیانی،لاہورہائیکورٹ کا پولیس کے رویے پر سخت برہمی کا اظہار،،ایڈیشنل آئی جی انویسٹیگیشن شہزادہ سلطان کل ذاتی حیثیت میں طلب۔
جسٹس محمدطارق ندیم نےملزم عمرفاروق کی درخواستِ ضمانت پرسماعت کی۔ عدالتی حکم پرڈی پی او منڈی بہاؤالدین کامران عامرخان پیش ہوئے،جبکہ ملزم کی جانب سے ایڈووکیٹ محمد احسان گوندل نے دلائل دیئے۔ سماعت کے دوران عدالت نے پولیس ریکارڈ میں موجود تتمہ بیان اورضمنی بیان سےمتعلق سخت سوالات اٹھائے۔ جسٹس محمد طارق ندیم نے ریمارکس دیئےکہ فائل میں ضمنی پہلےموجودنہیں تھی، اب اُسے ٹمپر کرکے لگایا گیا ہے۔
اس پر ڈی پی او کامران عامرخان نےمؤقف اختیار کیا کہ تتمہ بیان کی درخواست جوڈیشل فائل کیساتھ سیشن کورٹ میں موجود ہے، جبکہ تتمہ بیان اورضمنی بیان پولیس فائل کیساتھ پہلے سےموجود تھے۔عدالت نےاختلاف کرتےہوئےکہاکہ ریکارڈ جب عدالت میں آیا تھا تو تتمہ بیان موجود نہیں تھا۔ ڈی پی او نےجواب دیاکہ تتمہ بیان اورضمنی پولیس فائل میں موجود تھے، شاید تفتیشی افسرعدالت کو درست طور پرآگاہ نہ کرسکا ہو۔ اس پرجسٹس محمد طارق ندیم نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا، آپ غلط بیانی کررہے ہیں۔ ڈی پی او نےکہا، وہ درست کہہ رہے ہیں۔
عدالت نےریمارکس دیئے، آپ اپنے ماتحتوں سے اتنی ہی محبت کریں جتنی سے آپ کی تکریم قائم رہے، عدالت میں آکر بھی غلط بیانی کررہے ہیں۔ ڈی پی اونے کہا،اگر میری کوئی بات آپ کو ناگوار گزری ہو تو میں معذرت خواہ ہوں۔ عدالت نے ریمارکس دیئے،آپ کی بات بُری نہیں لگی، مگرآپ توعدالت پر ہی الزام لگا رہےہیں۔عدالت نےپولیس ریکارڈ اورتفتیشی کارروائی کی وضاحت کیلئےایڈیشنل آئی جی انویسٹیگیشن شہزادہ سلطان کوکل ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا۔