ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

  یوٹیوب نے والدین کے لیے زبردست فیچر متعارف کروا دیا

خطرناک مواد جیسے مخصوص جسمانی خدوخال کو آئیڈیلائز کرنے والی ویڈیوز کو بار بار دیکھنے کی اجازت نہیں ہوگی

  یوٹیوب نے والدین کے لیے زبردست فیچر متعارف کروا دیا
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک: یوٹیوب نے والدین کے لیے نئے فیچرز متعارف کرائے ہیں جن کے ذریعے وہ اپنے بچوں کے اکاؤنٹس پر زیادہ کنٹرول حاصل کر سکیں گے۔ اب والدین اپنے ٹین ایجرز کے لیے یوٹیوب شارٹس دیکھنے کا وقت محدود کر سکیں گے یا مکمل طور پر بند بھی کر سکیں گے۔

یوٹیوب کے مطابق والدین دو گھنٹے سے لے کر صفر منٹ تک کا وقت مقرر کر سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر والدین ہوم ورک کے دوران شارٹس فیڈ کو صفر پر سیٹ کر سکتے ہیں اور سفر کے دوران تفریح کے لیے 60 منٹ کا وقت مقرر کر سکتے ہیں۔

اس کے علاوہ والدین بچوں کے لیے کسٹم بیڈ ٹائم اور "ٹیک اے بریک" ریمائنڈرز بھی لگا سکیں گے۔ یوٹیوب نے بچوں کے لیے اکاؤنٹ سائن اپ اور مائنر و ایڈلٹ اکاؤنٹس کے درمیان سوئچنگ کے عمل کو بھی آسان بنا دیا ہے۔

پلیٹ فارم نے ٹین ایجرز کے لیے تجویز کردہ مواد کے رہنما اصول بھی اپ ڈیٹ کیے ہیں۔ اب ان کے لیے زیادہ تر ویڈیوز "تجسس اور تحریک"، "زندگی کی مہارتیں"، "تجربات" اور "فلاح و بہبود سے متعلق معتبر معلومات" پر مبنی ہوں گی۔ خطرناک مواد جیسے مخصوص جسمانی خدوخال کو آئیڈیلائز کرنے والی ویڈیوز کو بار بار دیکھنے کی اجازت نہیں ہوگی۔

یہ اقدامات اس اعلان کے بعد سامنے آئے ہیں کہ یوٹیوب مصنوعی ذہانت کے ذریعے صارفین کی عمر کا اندازہ لگائے گا اور مشکوک ٹین ایجرز کو خودکار طور پر انڈر 18 سیٹنگز میں منتقل کر دے گا۔ دیگر پلیٹ فارمز جیسے انسٹاگرام، چیٹ جی پی ٹی اور کریکٹر اے آئی بھی حالیہ دنوں میں اضافی پیرنٹل کنٹرولز متعارف کرا چکے ہیں۔

دوسری جانب گوگل کو بھی تنقید کا سامنا رہا جب ایک آن لائن چائلڈ سیفٹی ایکٹیوسٹ نے دعویٰ کیا کہ گوگل نے اس کے 13 سالہ بیٹے کو والدین کی نگرانی ختم کرنے کا آپشن دیا۔ بعد ازاں گوگل نے اپنی پالیسی اپ ڈیٹ کرتے ہوئے اعلان کیا کہ اب 13 سال یا اس سے زائد عمر کے صارفین والدین کی اجازت کے بغیر نگرانی ختم نہیں کر سکیں گے۔

گوگل کے مطابق یہ تبدیلی اس بات کو یقینی بنائے گی کہ تحفظات اس وقت تک برقرار رہیں جب تک والدین اور بچے دونوں اگلے مرحلے کے لیے تیار نہ ہوں۔