ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

غیر ملکیوں کیلئےسعودی عرب میں جائیداد خریدنے کیلئے نیا نظام نافذ

غیر ملکیوں کیلئےسعودی عرب میں جائیداد خریدنے کیلئے نیا نظام نافذ
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک:سعودی عرب جنوری 2026 سے غیر سعودی افراد کے لیے جائیداد کی ملکیت اور ریئل اسٹیٹ حقوق سے متعلق ایک نظرثانی شدہ قانونی نظام نافذ کرنے جا رہا ہے، جو مملکت میں غیر ملکیوں کی جائیداد ملکیت کے حوالے سے ایک بڑی تبدیلی تصور کی جا رہی ہے۔

وزیرِ بلدیات و ہاؤسنگ ماجد الحقیل کے مطابق نئے نظام کے تحت غیر ملکیوں کو سعودی عرب کے بیشتر شہروں میں رہائشی جائیداد خریدنے کی اجازت ہوگی، تاہم مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ، جدہ اور ریاض سمیت 4 شہروں کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔

سعودی عرب میں مقیم غیر ملکی ایک رہائشی یونٹ کے مالک بن سکیں گے، جبکہ غیر مقیم غیر ملکیوں کو صرف ان مخصوص علاقوں میں جائیداد رکھنے کی اجازت ہوگی جن کی منظوری متعلقہ حکام دیں گے۔

ماجد الحقیل کے مطابق غیر ملکیوں کو ملک بھر میں رہائشی جائیداد رکھنے کی اجازت ہوگی، سوائے ان 4 شہروں کے جنہیں مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے، تاہم مستقبل میں غیر مقیم غیر ملکیوں کے لیے مخصوص زونز متعین کیے جا سکتے ہیں۔

تجارتی، صنعتی اور زرعی جائیداد کے حوالے سے غیر ملکیوں کو تمام شہروں میں بلا استثنیٰ ملکیت کی اجازت ہوگی، جس سے سرمایہ کاری اور کاروباری سرگرمیوں میں وسعت متوقع ہے۔

نیا نظام غیر ملکیوں کی جائیداد ملکیت کو منظم کرنے کے لیے واضح جغرافیائی حدود، ملکیت کی حدیں اور قانونی ضوابط متعین کرتا ہے۔

غیر سعودی افراد کو جائیداد یا دیگر حقیقی حقوق صرف ان علاقوں میں حاصل کرنے کی اجازت ہوگی جن کی منظوری وزرا کونسل دے گی، یہ منظوری رئیل اسٹیٹ جنرل اتھارٹی کی سفارش اور کونسل آف اکنامک اینڈ ڈیولپمنٹ افیئرز کی توثیق کے بعد دی جائے گی۔

 ان منظوریوں میں اجازت یافتہ حقوق کی اقسام، زیادہ سے زیادہ ملکیتی تناسب اور دیگر شرائط واضح کی جائیں گی۔

قانون کے تحت سعودی عرب میں مقیم غیر ملکی افراد مخصوص زونز سے باہر ایک رہائشی جائیداد کے مالک بن سکتے ہیں، تاہم مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ اس سے مستثنیٰ رہیں گے۔

ان دونوں مقدس شہروں میں جائیداد کی ملکیت صرف مسلمانوں تک محدود رہے گی۔

غیر لسٹڈ کمپنیاں جن میں غیر ملکی ملکیت شامل ہو، سعودی کمپنی قانون کے تحت قائم ہونے کی صورت میں منظور شدہ جغرافیائی علاقوں میں، بشمول مکہ اور مدینہ، جائیداد کی مالک بن سکیں گی۔

یہ کمپنیاں کاروباری ضروریات یا ملازمین کی رہائش کے لیے منظور شدہ ضوابط کے تحت ان علاقوں سے باہر بھی جائیداد رکھ سکیں گی۔