ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

بھارت، 2 مسلمان خاتون کونسلروں کے خلاف’’وندے ماترم‘‘ نہ گانے پر مقدمہ

بھارت، 2 مسلمان خاتون کونسلروں کے خلاف’’وندے ماترم‘‘ نہ گانے پر مقدمہ
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک) بھارت کی ریاست مدھیہ پردیش کے شہر اندور میں کانگریس کی 2 مسلمان خاتون کونسلروں کے خلاف  قومی ترانہ’’وندے ماترم‘‘ نہ گانے پر مقدمہ درج کر لیا گیا  ہے۔

بھارت کے ایک اردو اخبار کی ویب نیوز کے مطابق اندور شہر کی  میونسپل کارپوریشن کے بجٹ اجلاس کے دوران کانگریس کی کونسلر روبینہ اقبال خان اور فوزیہ شیخ علیم نے ’’وندے ماترم گانے‘ سے منع کر دیا تھا، جس کے بعد کافی ہنگامہ ہوا۔ اب اس معاملے میں پولیس کارروائی شروع ہو گئی ہے۔موصولہ اطلاع کے مطابق بی جے پی کونسلروں نے ڈویژنل کمشنر اور ایم جی روڈ تھانہ میں درخواست دے کر دونوں کانگریس کونسلروں پر کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔ پولیس نے بی جے پی کونسلروں کی درخواست کی تفتیش کے بعد ان کے بیانات درج کیے۔ کانگریس کی دونوں خاتون کانسلروں سے بھی تھانے میں پوچھ گچھ کی گئی۔ جس کے بعد دونوں کونسلروں پر لگے الزامات کو درست پاتے ہوئے دفعہ 1/196 کے تحت معاملہ درج کیا گیا۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ دونوں مسلم کونسلروں نے آئین میں موجود مذہبی آزادی کی گارنٹی کا حوالہ دیا، پھر بھی ان کے خلاف معاملہ درج کر لیا گیا۔ اس سے قبل ایوان میں بھی دونوں کے خلاف کارروائی کی گئی۔ بتایا جا رہا ہے کہ ہنگامہ کے درمیان اسپیکر نے فوزیہ شیخ علیم کو ایوان سے باہر جانے کی ہدایت کی۔ اسپیکر نے کہا ’’وندے ماترم‘‘ گیت کے 150 سال پورے ہو چکے ہیں اور مرکزی حکومت نے گائیڈلائن جاری کیا ہے کہ اسے سبھی سرکاری دفاتر میں گایا جانا چاہیے۔ ایسے میں ’’وندے ماترم‘‘ گانے سے انکار کرنا درست نہیں ہے۔غور طلب ہے کہ کانگریس کونسلر فوزیہ شیخ اس وقت ایوان میں حاضر نہیں تھیں، جب’’ وندے ماترم‘‘ گایا جا رہا تھا اور وہ بعد میں ایوان کے اندر داخل ہوئیں۔ جب بی جے پی کونسلروں نے یہ معاملہ اٹھایا کہ کانگریس کونسلر کو اس وقت حاضر رہنا چاہیے تھا، تو فوزیہ نے بتایا کہ اس گیت میں کچھ ایسے الفاظ ہیں، جنھیں وہ نہیں گا سکتیں۔ فوزیہ کی باتوں کو وندے ماترم کے تئیں نازیبا تبصرہ تصور کیا گیا اور ایوان کی کارروائی میں رخنہ اندازی کا الزام عائد کر کےانہیں ایک دن کے لیے ایوان سے معطل کر دیا گیا تھا۔فوزیہ شیخ کا واضح لفظوں میں کہنا ہے کہ ان کا مذہب انھیں ’’وندے ماترم‘‘ گانے کی اجازت نہیں دیتا ہے۔ انھوں نے زور دے کر کہا کہ آئین انھیں مذہبی آزادی کی گارنٹی دیتا ہے اور کوئی بھی انھیں ’’وندے ماترم‘] گانے کے لیے مجبور نہیں کر سکتا۔