ویب ڈیسک :جیکب آباد/گھوٹکی: سندھ کے مختلف اضلاع میں امتحانی شفافیت پر سنگین سوالات اٹھ گئے ہیں جہاں دسویں اور گیارہویں جماعت کے پرچے وقت سے قبل آؤٹ ہونے کے واقعات سامنے آئے ہیں۔
جیکب آباد میں دسویں جماعت اُردو کا پرچہ امتحان سے قبل ہی سوشل میڈیا اور واٹس ایپ گروپس میں وائرل ہو گیا، جس کے باعث امتحانی مراکز میں نقل کا رجحان عروج پر پہنچ گیا۔ ذرائع کے مطابق بعض مقامات پر پیسے لے کر باہر سے پرچہ حل کروا کر طلباء کو فراہم کیا جا رہا تھا۔
ادھر گھوٹکی ضلع میں سکھر بورڈ کے زیرِ اہتمام انٹرمیڈیٹ کے امتحانات کے آغاز پر ہی گیارہویں جماعت انگلش کا پرچہ بھی وقت سے پہلے آؤٹ ہو گیا۔
ذرائع کے مطابق انگلش کا پرچہ بھی واٹس ایپ گروپس میں گردش کرتا رہا، جس نے انتظامیہ کیلئے بڑا چیلنج کھڑا کر دیا ہے۔