سرکاری ملازمین نے دھرنے کا اعلان کردیا

سرکاری ملازمین نے دھرنے کا اعلان کردیا

(سٹی 42)   آل پنجاب گورنمنٹ ایمپلائز گرینڈ الائنس کے عہد یداران نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کردیا، حکومت کا مطالبات نہ ماننے پر  احتجاجی مظاہرہ اور دھرنے کا اعلان  بھی کردیا۔

لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے آل پنجاب گورنمنٹ ایمپلائز گرینڈ الائنس کے عہد یداران کا کہنا تھا کہ شائد تاریخ میں ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ خالی خزانہ کو جواز بنا کر سالانہ بجٹ 2020 میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ نہیں کیا گیا مگر کئی طاقتور محکمہ جات ایسے بھی ہیں جن کے الاؤنسز میں بے تحاشہ اضافہ کردیا گیا ہے جس سے عملا ان کی تنخواہوں میں کئی گنا اضافہ ہو چکا ہے۔ جس میں عدلیہ اور بیوروکریسی کے ایگزیکٹو اور یو ٹیلٹی الاؤنس کی شرح اور ایف آئی اے ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ، پولیس کیلئے ایگزیکٹؤ الاؤنس اور فوڈ اتھارٹی کے کنٹریکٹ ملازمین کیلئے الاؤنس کا اجرا شامل ہیں۔

آئی ایم کے دباؤ کے تحت اب سرکاری ملازمین کیلئے نئی پالیسی کا اجرا ہونے جا رہا ہے جس کے تحت ملازم کا 60 سال کی عمر تک سروس کرنے کا تحفظ ختم کرنا، سالانہ انکریمنٹ کو بنیادی تنخواہ کا حصہ نہ بنانا، ملازمین کو پنشن سے محروم کرنا اور ایسی کئی ملازم  دشمن اقدامات زیرِ غور ہیں۔

اس تمام تر صورتحال کے پیشِ نطر 4 جولائی کو ملتان میں پنجاب بھر کے ملازمین کی تنظیموں کا اجلاس ہوا جس میں آل پاکستان کلرکس ایسوی ایشن، متحدہ محاذِ اساتذہ پنجاب، تحریک استاد پنجاب( کالج ونگ)، لیڈی ہیلتھ ورکرز ایسوسی ایشن ، سب انجینئر ز ایسوسی ایشن ، انجمن پٹواریان،تعلیمی بورڈ ایمپلائز ایسوسی ایشن، کلاس فور ملازمین ایسوسی ایشن سمیت دیگر تنظیموں کے مرکزی عہدیداران نے شرکت کی۔

اجلاس میں ایک قرارداد کے ذریعہ حکومت پاکستان سے اپیل کی گئی کہ" دو نہیں ایک پاکستان" بنانے کیلئے وسائل کی منصفانہ تقسیم کرتے ہوئے مختلف محکمہ جات کے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں تفاوت کا خاتمہ کیا جائے،اجلاس میں پنجاب حکومت کے دہرے معیار کی شدید مذمت کی گئی اور ملازم دشمن پالیسیوں کے خلاف مشترکہ جدوجہد کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

اجلاس میں اتفاق رائے سےخالد جاوید سنگھیڑا( ایپکا) کو آل پنجاب گورنمنٹ ایمپلائز گرینڈ الائنس کا چیئر مین ، پروفیسر طارق کلیم( تحریک اساتذہ کالج ونگ) کو سیکرٹری جنرل اور حافظ عبد الناصر ( متحدہ محاذ اساتذہ پنجاب) کو سرپرست اعلیٰ منتخب کرلیا گیا۔ ملازمین کو چارٹر آف ڈیمانڈ سے آگاہ کرنے اور لاہور میں بڑے احتجاج کی کال دینے کی غرض سے پنجاب کی تمام ڈویژنز میں 11 جولائی تا 5 ستمبر 2020 کنونشن اور احتجاجی ریلیوں کا انعقاد کیا گیا۔

اس سال اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں 100 فیصد سے بھی زائد اضافہ ہو چکا ہے جس سے سرکاری ملازمین کی قوت خرید میں کمی واقع ہوئی ہے۔ سرکاری ملازمین کے افراد خانہ کیلئے جسم و جان کا رشتہ برقرار رکھنا ناممکن ہوگیا ہے۔کورونا کو جواز بنا کرسرکاری ملازمین کی تنخواہیں نہ بڑھانے کا افسوس نہ ہوتا اگر حکومت تمام ملازمین کے ساتھ یکساں سلوک کرتے ہوئے کسی بھی محکمے کی تنخواہوں یا الاؤنسز میں اضافہ نہ کرتی۔

"دو نہیں ایک پاکستان" کا نعرہ لگانے والوں نے خود ملازمین میں بے شمار طبقات پیدا کردیئے جو کسی طرح بھی قابل قبول نہیں۔ ہم وزیر اعظم،وزیراعلیٰ پنجاب اور گورنر پنجاب سےمطالبہ کرتے ہیں کہ اگر امن و امان کی صورتحال کو قابو میں دیکھنا چاہتے ہیں تو سرکاری ملازمین کے لاہور پہنچنے سے پہلے پہلےان کے تمام مطالبات تسلیم کیے جائیں جس میں تمام ایڈہاک ریلیف ضم کرکے نئے پے سکیلز کا اجراء، تمام ملازمین کی بلاتفریق ایگزیکٹو اور یوٹیلٹی الاؤنس وغیرہ کی عطائیگی،سکول ایجوکیشن میں ٹائم سکیل نوٹیفیکیشن کی واپسی کا خاتمہ، تمام ملازمین کی تاریخ تقرری سے مستقلی، احتجاجی تحریکوں کے دوران برطرف کئے جانے والے ملازمین کی غیر مشروط بحالی، سب انجینئر کیلئے ٹیکنیکل الاؤنس کا اجراء، کالجز کو یونیورسٹیز میں تبدیل کرنے کی بجائے نئی یونیورسٹیز کا قیام عمل میں لانا، سکول ایجوکیشن میں ریشنلائزیشن پالیسی کے ضمن میں سٹوڈںٹ ٹیچر نسبت کو 1:40 پر لانا، درجہ چہارم ملازمین کو بنیادی سکیل پانچ کی عطائیگی، بلوچستان اور خیبر پختونخواہ کی طرز پر ریٹائرمنٹ کے موقع پر گروپ انشورنس کی ادائیگی اور دیگر مطالبات شامل ہیں۔

عہد یداران نے بتایا کہ ہم نے 4 جولائی سے تحریک کا آغاز کیا ہوا ہے مگر پنجاب حکومت کی چارٹر آف ڈیمانڈ تسلیم کرنے کیلئے آج تک کوئی موثر رابطہ نہیں کیا گیا۔ آج 14 ستمبر کو لاہور میں آل پنجاب گورنمنٹ ایمپلائز گرینڈ الائنس کی مرکزی مجلس عاملہ کا اجلاس ہوا جس میں وزیر اعلیٰ و گورنر سے مطالبہ کیا گیا کہ  آل پنجاب گورنمنٹ ایمپلائز گرینڈ الائنس کے چارٹر آف ڈیمانڈ کو 30 ستمبر تک تسلیم نہ کیا گیا تو سرکاری ملازمین اپنا جمہوری اور آئینی حق استعمال کرتے ہوئے 7 اکتوبر کو پنجاب بھر کے ملازمین گورنر ہاؤس کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کریں گے اور دھرنا دیں گے۔ یہ دھرنا تاریخی نوعیت کا ہوگا جس میں لاکھوں سرکاری ملازمین شریک ہو کر حکومت کی ملازم دشمن پالیسیوں کے خلاف آواز بلند کریں گے۔

 پریس کانفرنس میں  آل پنجاب گورنمنٹ ایمپلائز گرینڈ الائنس کے چیئر مین خالد جاوید سنگھیڑا، سیکرٹری جنرل پروفیسر طارق کلیم اور سرپرست اعلیٰ حافظ عبدالناصر کے علاوہ دیگر ارکان نے شرکت کی۔ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا مزید  کہنا تھا کہ 24  ستمبر  کو لاہور میں ڈویژنل  کنونشن اور احتجاجی ریلی نکالی جائے گی باقی بھی اضلاع میں احتجاجی ریلیوں کا انعقاد کیا جائے گا۔